حدیث نمبر: 40538
٤٠٥٣٨ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (أخبرنا) (١) أبو عبيدة عن الحسن قال: إنما (جعل) (٢) اللَّه هذا السلطان ناصرًا لعباد اللَّه (ولدينه) (٣)، فكيف من ركب ظلما على عباد اللَّه واتخذ عباد اللَّه خولا؟ يحكمون في دمائهم وأموالهم ما شاءوا، واللَّه ⦗٤٦٠⦘ إن يمتنع أحد، واللَّه ما لقيت أمة بعد نبيها من الفتن والذل ما لقيت هذه بعد (نبيها) (٤).مولانا محمد اویس سرور
حسن سے منقول ہے کہ اللہ بادشاہ کو صرف اللہ کے بندوں کی مدد اور اپنے دین کے لیے سلطان بناتا ہے اس کا کیا حال ہوگا جو اللہ کے بندوں پر ظلم کرے اور ان کو اپنا غلام بنالے اور پھر وہ بادشاہ لوگوں کی جانوں اور مالوں کا جس طرح چاہے فیصلہ کرے اللہ کی قسم کوئی منع بھی نہ کرے اللہ کی قسم امت جس فتنے اور ذلت سے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد دوچار ہوئی ہے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد ایسا فتنہ کبھی نہیں دیکھا۔
حواشی
(١) في [أ، ب، ع]: (أنبأنا).
(٢) في [هـ]: (حبل).
(٣) في [ط، هـ]: (ودينه).
(٤) في [جـ]: (نبيها ﷺ)، وفي [س]: (نبيهما).