٤٠٥٣٧ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا شريك عن أبي اليقظان عن زاذان عن (عُلَيم) (١) قال: كنا معه على سطح ومعه رجل من أصحاب النبي ﷺ في ⦗٤٥٩⦘ أيام الطاعون، فجعلت (الجنائز) (٢) تمر، فقال: يا طاعون خذني، قال: فقال (عليم) (٣): ألم يقل رسول اللَّه ﷺ: "لا (يتمنين) (٤) أحدكم الموت، فإنه عند انقطاع عمله، ولا يرد فيستعتبه"، فقال: سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "بادروا بالموت ستا: امرة السفهاء، وكثرة الشرط، وبيع الحكم، و (استخفافا) (٥) بالدم، (ونشوءا) (٦) يتخذون القرآن مزامير، يقدمونه ليغنيهم (وإن) (٧) كان أقلهم فقها" (٨).زاذان علیم سے روایت کرتے ہیں کہ ہم ان کے ساتھ چھت پر تھے اور ان کے ساتھ ایک صحابی بھی تھے۔ طاعون کے دنوں میں پس ہمارے پاس سے جنازے گزرنے شروع ہوئے تو اس نے کہا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ تم میں سے کوئی موت کی تمنا نہ کرے کیونکہ موت اعمال کے منقطع ہونے کا باعث ہے اور انسان کو لوٹا یا نہیں جاتا کہ وہ اللہ کو راضی کرے۔ پس انہوں نے فرمایا میں نے رسو ل اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ تم چھ چیزوں کی وجہ سے موت کو جلدی طلب کرو، بیوقوفوں کی امارت کی وجہ سے، بادشاہوں کے خاص سپاہیوں کے زیادہ ہوجانے کی وجہ سے، فیصلوں کے بکنے کی وجہ سے اور خون ارزاں ہونے کی وجہ سے اور قرآن کو بانسریاں بنانے والے نو عمر لڑکوں کی وجہ سے جنھیں لوگ نماز میں اس لیے آگے کریں گے تاکہ وہ انہیں قرآن کو گانے کے انداز میں سنائے حالانکہ وہ اپنی فہم میں سب سے کم تر ہوگا۔