حدیث نمبر: 40533
٤٠٥٣٣ - حدثنا يعلى بن عبيد عن موسى الجهني عن قيس بن يزيد قال: حدثتني مولاتي سدرة أن (جدك) (١) سلمة (٢) بن قيس حدثني قال: لقيت أبا ذر فقال: يا سلمة بن قيس: ثلاث قد حفظتها لا تجمع بين الضرائر، فإنك لن تعدل ولو حرصت، ولا تعمل على الصدقة فإن صاحب الصدقة زائد وناقص، ولا تغش ذا سلطان فإنك لا تصيب من دنياهم شيئا إلا أصابوا من دينك أفضل منه (٣).مولانا محمد اویس سرور
سلمہ بن قیس سے منقول ہے کہتے ہیں کہ میں ابو ذر سے ملا انہوں نے فرمایا : اے سلمہ بن قیس ! تین چیزوں کو تم محفوظ کرلو دوسوکنوں کو جمع نہ کرنا تم عدل نہیں کرپاؤ گے اگر چہ تم کتنے ہی حریص ہو، دوسرا صدقات پر محصل نہ بننا کیونکہ یا تو وہ کمی کرنے والا ہوتا ہے یا زیادتی کرنے والا، بادشاہ کے قریب زیادہ نہ جانا کیونکہ جتنا تم ان کی دنیا تک پہنچو گے اس سے زیادہ یہ تمہارے دین کو لے اڑیں گے۔
حواشی
(١) سقط من: [س]، وفي [أ، ط، هـ]: (جدي)، وفي [ع]: بعدها زيادة (أبا).
(٢) في [أ، ب]: مكررة.
(٣) مجهول؛ لجهالة قيس وسدرة، وأخرجه البيهقي في الشعب (٩٤١١).