حدیث نمبر: 40521
٤٠٥٢١ - حدثنا محمد بن فضيل عن يزيد بن أبي زياد عن سليمان بن عمرو بن الأحوص قال: أخبرني رب (هذه) (١) الدار: أبو هلال أنه سمع أبا برزة الأسلمي يحدث أنهم كانوا مع رسول اللَّه ﷺ (٢) فسمعوا (غناء) (٣) (فاستشرفوا له) (٤)، فقام رجل فاستمع؛ وذلك قبل أن (تحرم) (٥) الخمر، فأتاهم ثم رجع، فقال: هذا فلان وفلان، وهما (يتغنيان) (٦) ويجيب أحدهما الآخر وهو يقول: (لا يزال) (٧) حواريَّ تلوح عظامه … (زوى) (٨) الحرب (عنه) (٩) أن يجن فرفع رسول اللَّه ﷺ يديه فقال: " (اللهم) (١٠) أركسهما في الفتنة ركسا، اللهم دُعَّهما إلى النار دعا" (١١).
مولانا محمد اویس سرور

ابو برزہ اسلمی روایت کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھی ایک سفر مں م آپ کے ساتھ تھے۔ پس انہوں نے گائے کی آواز سنی اور وہ اس آواز کی طرف متوجہ ہوگئے پس ایک شخص اٹھا اور آواز کی ٹوہ میں لگ گیا یہ حرمت شراب سے پہلے کی بات ہے۔ پس وہ ان کے پاس پہنچا اور واپس لوٹا اور بتایا کہ یہ فلاں اور فلاں ہیں دونوں گانا گا رہے ہیں اور ایک دوسرے کا جواب دے رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ انصاری کی ہڈیاں پڑی چمکتی رہیں گی اور شدید جنگ اس کو دفن کرنے سے مانع ہوگی کہ اس کی قبر بنائی جاسکے گی۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ اٹھائے اور دعا کی اے اللہ ! ان دونوں کو کسی فتنے میں مبتلا کردے، اے اللہ ! ان کو آگ میں دھکیل دے۔

حواشی
(١) في [ب، ط، هـ]: (هذا).
(٢) في [هـ]: زيادة (في سفر).
(٣) سقط من: [أ، ب].
(٤) في [س]: (فاسترقوا)، وفي [ع]: (فسرقوا).
(٥) في [ب]: (يحرم).
(٦) في [س]: (ينفيان).
(٧) سقط من: [ب، س]، وفي [أ، ب]: زيادة (يعني).
(٨) في [س]: (ذو)، وفي [أ، ب]: (ذوا).
(٩) سقط من: [أ، ب].
(١٠) سقط من: [ع].
(١١) مجهول؛ لجهالة سليمان بن عمرو وأبي هلال، أخرجه أحمد (١٩٧٨٠)، وأبو يعلى (٧٤٣٧)، والبزار (٣٨٩٩)، وابن حبان في المجروحين ٣/ ١٠١، وابن الجوزي في الموضوعات ٢/ ٢٨.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40521
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40521، ترقيم محمد عوامة 38875)