حدیث نمبر: 40513
٤٠٥١٣ - حدثنا أبو المورع قال: (أخبرنا) (١) العلاء بن عبد الكريم عن ⦗٤٤٤⦘ (عميرة) (٢) بن سعد قال: لما قدم طلحة والزبيرومن معهم قال: قام رجل في مجمع من الناس فقال: (أنا) (٣) فلان بن فلان، أحد بني (جشم) (٤)، فقال: إن هؤلاء الذين قدموا عليكم، إن كان إنما بهم الخوف فجاؤوا من حيث يأمن الطير، وإن كان إنما بهم قتل عثمان فهم قتلوه، وإن الرأي فيهم أن (تنخس) (٥) بهم دوابهم حتى يخرجوا (٦).مولانا محمد اویس سرور
عمیرہ بن سعد سے منقول ہے کہ جب طلحہ زبیر اور ان کے ساتھی آئے تو ایک شخص مجمع کے درمیان سے اٹھا اور کہا میں فلاں بن فلاں قبیلہ بنی جشم سے ہوں۔ پھر کہا یہ لوگ (طلحہ زبیر اور ان کے ساتھی) تمہارے پاس آئے ہیں۔ اگر یہ کسی خوف کی وجہ سے آئے ہیں تو پھر ایسی جگہ سے آئے ہیں جہاں پرندے کو بھی امن حاصل ہے (یعنی مکہ میں) اور اگر حضرت عثمان کے قتل کی وجہ سے آئے ہیں تو ان کے پاس ہی ان کو قتل کیا گیا ہے ان کے بارے میں رائے یہ ہے کہ ان کے جانوروں کو آنکڑے ماریں جائیں تا کہ یہ یہاں سے نکل جائیں۔
حواشی
(١) في [أ، ب]: (أنا).
(٢) في [س]: (عمرة).
(٣) في [ع]: (يا).
(٤) في [س]: (حيشم).
(٥) في [أ، ب، ط، هـ]: (تنخسف).