حدیث نمبر: 40511
٤٠٥١١ - حدثنا أبو أسامة عن ابن أبي عروبة عن قتادة قال: أخذ علي بيد الأشتر ثم انطلق (به) (١) حتى أتى طلحة، فقال: (يا طلحة) (٢) إن هؤلاء -يعني أهل مصر- يسمعون منك ويطيعونك، فانههم عن قتل عثمان، فقال: (ما أستطيع) (٣) دفع دم أراد اللَّه إهراقه؛ فأخذ علي بيد الأشتر، ثم انصرف وهو يقول: (بئس) (٤) ما ظنَّ ابن الحضرمية أن يقتل ابن عمي ويغلبني على ملكي، (بئس) (٥) ما (رأى) (٦) (٧).
مولانا محمد اویس سرور

قتادہ سے روایت ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے اشتر کا ہاتھ تھاما اور چل دیے یہاں تک کہ طلحہ کے پاس آئے پھر فرمایا یہ لوگ یعنی اہل مصر آپ کی بات سنتے ہیں اور آپ کی اطاعت کرتے ہیں پس ان کو حضرت عثمان کے قتل سے منع کریں انہوں نے جواب دیا جس خون کو اللہ نے بہانے کا ارادہ کرلیا ہے میں اسے نہیں روک سکتا۔ پس حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اشتر کا ہاتھ پکڑا اور واپس آگئے یہ کہتے ہوئے کہ ابن حضر میہ کا یہ گمان کتنا بڑا ہے کہ میرے چچا کے بیٹے کو قتل کیا جائے اس حال میں کہ وہ میرے ملک میں مجھ پر غالب آ رہا ہے جو میں دیکھ رہا ہوں۔

حواشی
(١) سقط من: [جـ].
(٢) سقط من: [هـ].
(٣) في [ع]: (لا أستطع).
(٤) في [ع]: (لبئس).
(٥) في [ع]: (ليس)، وفي [أ]: (بئيس).
(٦) في [أ، ب، ط، هـ]: (أرى).
(٧) منقطع؛ قتادة لم يدرك عليًا.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40511
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40511، ترقيم محمد عوامة 38865)