حدیث نمبر: 40510
٤٠٥١٠ - حدثنا يحيى بن آدم قال: (حدثنا) (١) أبو بكر بن عياش عن مغيرة عن إبراهيم عن علقمة قال: قلت للأشتر: لقد كنت كارها ليوم الدار (فكيف رجعت عن رأيك؟ فقال: أجل، واللَّه إن كنت لكارهًا ليوم الدار) (٢)، ولكن جئت بأم حبيبة بنت أبي سفيان لأدخلها الدار، وأردت أن أخرج عثمان في هودج، فأبوا أن يدعوني وقالوا: ما لنا ولك يا أشتر، (ولكني) (٣) رأيت طلحة والزبير والقوم بايعوا عليا طائعين غير مكرهين، ثم نكثوا عليه، قلت: (فابن) (٤) الزبير (القائل) (٥): اقتلوني ومالكا؟ قال: لا، واللَّه، ولا رفعت السيف عن (ابن) (٦) الزبير وأنا أرى أن (فيه) (٧) شيئا من الروح، لأني كنت عليه (بحنق) (٨)؛ لأنه استخف أم المؤمنين حتى أخرجها، فلما لقيته ما رضيت له بقوة ساعدي حتى قمت في الركابين قائما فضربته على رأسه، فرأيت أني (قد) (٩) قتلته، ولكن القائل اقتلوني ومالكا: عبد الرحمن بن عتاب بن أسيد لما لقيته (اعتنقته) (١٠) فوقعت أنا وهو عن فرسينا، فجعل (ينادي) (١١): اقتلوني ومالكا، والناس يمرون لا يدرون من يعني، و (لو) (١٢) يقل: ⦗٤٤٣⦘ الأشتر (١٣)، (لقتلت) (١٤) (١٥).
مولانا محمد اویس سرور

علقمہ سے منقول ہے کہتے ہیں میں نے مشتہر سے کہا آپ تو یوم دار (حضرت کے گھر کے محاصرے کا دن) کو ناپسند کرتے تھے پھر آپ نے کیسے اپنی رائے سے رجوع کیا ؟ تو اس نے کہا اللہ کی قسم میں یوم دار کو ناپسند کرتا تھا اور میں ام حبیبہ بنت ابو سفیان کو لایا تا کہ میں ان کو حضرت عثمان کے گھر لے جاؤں اور حضرت عثمان کو ھودج میں نکال لوں۔ مگر انہوں نے مجھے اندر جانے سے روک دیا اور کہا کہ ہمارا اشتر سے کیا واسطہ۔ لیکن میں نے طلحہ زبیر اور کچھ لوگوں کو دیکھا کہ انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بغیر کسی اکراہ کے بیعت کی اور پھر اس بیعت کو توڑ ڈالا۔ علقمہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ ابن زبیر یہ کہنے والے تھے کہ ” مجھے اور مالک کو قتل کردو “ تو اس نے جواب دیا نہیں اللہ کی قسم میں نے ابن زبیر سے تلوار نہیں ہٹائی تھی اس حال میں کہ اندر روح کو دیکھ رہا تھا (یعنی زندگی کی رمق دیکھتا رہا) کیونکہ مجھے ان پر غصہ تھا اس بات پر کہ انہوں نے ام المومنین کو وقعت نہ دی تھی یہاں تک کہ میں ام المومنین کو واپس لے گیا۔ پس جب میرا ان سے لڑائی میں سامنا ہوا تو میں نے اپنے بازؤں کی قوت پر اکتفاء نہیں کیا بلکہ میں نے دونوں رکابوں میں کھڑے ہو کر قوت کے ساتھ ان کے سر میں تلوار ماری پس میں نے اس کو قتل ہوتے ہوئے دیکھ لیا۔ لیکن (مجھے اور مالک کو قتل کردو) کہنے والے، عبدالرحمن بن عتاب سے جب ملاقات ہوئی تو میں نے اس پر تلوار زنی کی حتی کہ میں اور وہ اپنے گھوڑوں سے گرگئے پس اس نے پکارنا شروع کیا کہ مجھے اور مالک کو قتل کردو اور لوگ گزر رہے تھے مگر وہ نہیں جانتے تھے کہ مالک سے اس کی مراد کیا ہے کیونکہ اس نے اشتر نہیں کہا تھا اگر وہ اشتر کہتا تو قتل کردیا جاتا۔

حواشی
(١) في [ط، هـ]: (حدثني).
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) في [ع]: (ولكن).
(٤) في [أ، ب، جـ، ع]: (فأين).
(٥) في [جـ]: تكرر.
(٦) سقط من: [أ، ب].
(٧) في [ع]: (فيها).
(٨) في [أ، ب]: (بحتف).
(٩) سقط من: [أ، ب].
(١٠) في [س]: (اعتقنه).
(١١) في [ع]: (يقول).
(١٢) في [أ، ط، هـ]: (لم).
(١٣) في [هـ]: زيادة (إلا).
(١٤) في (س): (نقلت).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40510
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه ابن شبه (٢٣٨٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40510، ترقيم محمد عوامة 38864)