٤٠٥٠٨ - حدثنا زيد بن (الحباب) (١) (قال: (حدثني) (٢) العلاء بن المنهال) (٣) قال: حدثني محمد بن سوقة قال: (حدثني) (٤) منذر الثوري قال: كنا عند محمد بن ⦗٤٤١⦘ الحنفية، قال: (فنال) (٥) بعض القوم من عثمان فقال: مه، (فقلنا) (٦) له: كان أبوك يسب عثمان، (قال) (٧): ما (سبه) (٨)، ولو سبه يومًا (لسبه) (٩) يوم جئته وجاءه (السعاة) (١٠)، فقال: (خذ) (١١) كتاب (١٢) (السعاة) (١٣) فاذهب به إلى عثمان، فأخذته فذهبت به إليه، فقال: لا حاجة لنا (فيه) (١٤)، فجئت إليه فأخبرته فقال: ضعه موضعه، فلو سبه يوما لسبه ذلك اليوم (١٥).منذر ثوری فرماتے ہیں کہ ہم محمد ابن حنفیہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ کسی نے حضرت عثمان کو برا بھلا کہا تو محمد بن حنفیہ نے فرمایا ٹھہر جاؤ، تو ہم نے کہا آپ کے والد ماجد (حضرت علی رضی اللہ عنہ ) تو ان کو برا بھلا کہا کرتے تھے تو انہوں نے فرمایا کہ انہوں نے کبھی حضرت عثمان کو برا بھلا نہیں کہا۔ اگر وہ برا بھلا کہتے تو اس دن کہتے جس دن میں ان کے پاس آیا اس حال میں کہ ان کے پاس صدقات وصول کرنے والے آئے ہوئے تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا سب سے بہتر کتاب اللہ ہے اس کو لے جاؤ اور حضرت عثمان کو دے دو ۔ پس اسے لیکر حضرت عثمان کی خدمت میں حاضر ہوا مگر انہوں نے کہا کہ مجھے اس کی ضرورت نہیں پس میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں واپس ہوا اور ان کو حضرت عثمان کے قول کے بارے میں بتایا پس حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس کو اس کی جگہ پر رکھ دو ۔ اگر حضرت علی رضی اللہ عنہان کو طعن وتشنیع کرتے تو اس دن کرتے۔