٤٠٥٠٢ - حدثنا يزيد بن هارون عن العوام قال: حدثني رجل من أصحاب (الآجر) (١) (عن) (٢) شيخين من بني ثعلبة رجل وامرأته قالا: قدمنا الربذة فمررنا برجل أبيض الرأس واللحية أشعث، فقيل له: هذا من (أصحاب) (٣) رسول اللَّه ﷺ (٤)، وقد فعل بك هذا الرجل وفعل، فهل أنت ناصب لنا راية (فنأتيك) (٥) برجال ما شئت، فقال: يا أهل الإسلام! لا ترضوا علي أذاكم، لا تذلوا السلطان، فإنه من أذل السلطان أذله اللَّه، واللَّه (أن) (٦) لو صلبني عثمان على أطول (حبل) (٧) أو أطول خشبة لسمعت وأطعت وصبرت واحتسبت ورأيت أن ذلك خير لي، ولو ⦗٤٣٩⦘ (سيرني) (٨) ما بين الأفق إلى الأفق، أو (ما) (٩) بين المشرق إلى المغرب، لسمعت وأطعت وصبرت واحتسبت ورأيت أن ذلك خير لي (١٠).آجر کے ساتھیوں میں سے ایک ساتھی سے منقول ہے وہ بنی ثعلبہ کے دو بوڑھوں سے روایت کرتا ہے یعنی ایک مرددوسری عورت دونوں کہتے ہیں کہ ہم ربذہ مقام کے پاس سے گزرے وہاں ہم نے ایک سفید داڑھی اور سفید سر والے پراگندہ حال شخص کو دیکھا پس کہا گیا کہ یہ صحابی رسول ہیں (ایک وفد آیا اس نے حضرت ابو ذر کی حالت بہتر دیکھ کر کہا) یہ سلوک اس شخص نے کیا ہے ؟ کیا آپ ہمارے لیے جھنڈا نصب کریں گے تا کہ آپ کے پاس لوگ آپ کی مدد کے لیے آئیں اگر آپ چاہیں تو انہوں نے کہا کہ اے لوگو ! اپنی اذیت کو میرے اوپر پیش نہ کرو اور نہ امرا کو رسوا کرو کیونکہ جو امیر کو رسوا کرے گا اللہ اسے بھی ذلیل کرے گا۔ اللہ کی قسم اگر حضرت عثمان مجھے سب سے اونچے پہاڑ یا لکڑی پر سولی چڑھانا چاہیں تو میں ان کے اس حکم کی بھی اطاعت کروں گا اور اس پر صبر کروں گا اور اللہ سے اجر کی امید رکھوں گا اور اس کو اپنے لیے باعث خیر جانوں گا۔ اگر وہ مجھے ایک افق سے دوسرے افق تک چلنے کا حکم دیں یا مشرق سے مغرب تک چلنے کا حکم دیں تو ضرور اطاعت کروں گا اور صبر کروں گا۔