حدیث نمبر: 40501
٤٠٥٠١ - حدثنا وكيع قال: حدثنا الأعمش عن أبي إسحاق عن عبيد بن عمرو (الخارفي) (١) قال: كنت أحدَ النفر (الذين) (٢) قدموا فنزلوا بذي المروة، (فأرسلونا) (٣) إلى نفر من أصحاب محمد ﷺ (٤) وأزواجه نسالهم: أنقدم أو نرجع؟ وقيل لنا؟ اجعلوا عليا آخر من (تسألون) (٥)، قال: فسألناهم فكلهم أمر بالقدوم فأتينا عليا فسألناه فقال: سألتم أحدا قبلي؟ قلنا: نعم، قال: فما أمروكم ⦗٤٣٨⦘ به؟ (قلنا) (٦): أمرونا بالقدوم، قال: لكني لا آمركم، (أما لا) (٧) بيض (فليفرخ) (٨) (٩).
مولانا محمد اویس سرور

عبید بن عمرو خارفی سے منقول ہے کہ جو لوگ مدینہ آئے تھے ان میں سے میں بھی ایک تھا پس یہ قافلہ ذی مروہ میں ٹھہرا۔ قافلے والوں نے ہمیں اصحاب محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان کی ازواج مطہرات g کے پاس بھیجا کہ ہم ان سے یہ سوال کریں کہ ہم مدینہ آجائیں یا لوٹ جائیں اور ہم کو یہ بھی ہدایت کی گئی کہ سب سے آخر میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سوال کرنا ہے۔ پس ہم نے ان سے بات کی اور سوال کیا آنے یا واپس لوٹنے کے بارے میں۔ انہوں نے آنے کا مشورہ دیا پھر ہم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچ کر ان سے سوال کیا تو انہوں نے پوچھا کیا تم لوگوں نے مجھ سے پہلے بھی کسی سے یہ سوال کیا تو ہم نے کہا جی ہاں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا انہوں نے کیا حکم دیا ہے ؟ ہم نے کہا آنے کا حکم دیا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا لیکن میں تمہیں یہ حکم نہیں دیتا یہ معاملہ ایسا ہے کہ اسکا انجام جلد ظاہر ہوجائے گا۔

حواشی
(١) في [أ، ب]: (الحارثي)، وفي [س، هـ]: (الخارقي).
(٢) في [ع]: (الذي).
(٣) في [جـ]: (مال سلونا).
(٤) سقط من: [ع].
(٥) في [ط، هـ]: (تسألون)، وفي [ع]: (تصلون).
(٦) في [ع]: (قال).
(٧) سقط من: [هـ].
(٨) أي: إن تقتلوه تهيجوا فتنة يتولد منه شر كبير، انظر: النهاية ٣/ ٤٢٤، الفائق ٣/ ١٠٩، ولسان العرب ٣/ ٤٢، وغريب الحديث للخطابي ٢/ ٢٠٣.
(٩) مجهول؛ عبيد بن عمرو اختلف في اسمه كثيرًا، لم يرو عنه إلا أبو إسحاق وهو مترجم في التهذيب باسم: (أبي المغيرة البجلي)، والخبر أخرجه الخطابي في غريب الحديث ٢/ ٢٠٤.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40501
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40501، ترقيم محمد عوامة 38856)