حدیث نمبر: 4050
٤٠٥٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (عبد اللَّه) (١) بن نمير عن عبيد اللَّه بن عمر عن محمد بن إبراهيم عن أبي سلمة قال: صلى عمر المغرب فلم يقرأ، فلما انصرف قال له الناس: إنك لم تقرأ. قال: فكيف كان الركوع والسجود تام هو؟ قالوا: نعم، فقال: لا بأس إني حدثت نفسي (بعير) (٢) جهزتها بأقتابها (وحقائبها) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو سلمہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے مغرب کی نماز پڑھی لیکن اس میں قراءت نہ کی۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں نے ان سے کہا کہ آپ نے قراءت نہیں کی ہے ! حضرت عمرنے ان سے پوچھا کہ رکوع اور سجدے کیسے تھے ؟ کیا وہ پورے تھے ؟ لوگوں نے کہاجی ہاں۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ پھر کوئی حرج نہیں۔ میں اپنے دل میں ایک لشکر کی تیاری کے بارے میں سوچ رہا تھا۔

حواشی
(١) في [أ، ب، هـ]: (عبيد اللَّه).
(٢) في [ب]: (بغير).
(٣) في [ب، جـ]: (حقابها).
(٤) منقطع؛ أبو سلمة لا يروي عن عمر.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 4050
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4050، ترقيم محمد عوامة 4028)