٤٠٤٨٣ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا كهمس قال: حدثني عبد اللَّه بن شقيق قال: حدثني الأقرع قال: أرسل عمر إلى الأسقف، قال: فهو يسأله وأنا قائم عليهما (أظلهما) (١) من الشمس، فقال له: هل تجدنا في كتابكم؟ قال: نعتكم وأعمالكم، قال: فما تجدني؟ قال: أجدك قرن (حديد) (٢) [قال: (فنفط) (٣) عمر وجهه وقال: قرن (حديد؟) (٤)] (٥) قال: أمين شديد، قال: فكأنه فرح بذلك، قال: فما تجد بعدي؟ (قال) (٦): [خليفة صدق يؤثر أقربيه، قال: (فقال) (٧) عمر: يرحم اللَّه ابن عفان، قال: فما تجد بعده؟] (٨) قال: صدع حديد، قال: (وفي) (٩) يد عمر شيء يقلبه، قال: فنبذه وقال: يا (دفراه) (١٠)! مرتين أو ثلاثًا، (فقال) (١١): لا تقل (ذلك) (١٢) يا أمير المؤمنين فإنه خليفة مسلم ورجل صالح، ولكنه يستخلف والسيف ⦗٤٢٣⦘ مسلول والدم مهراق، قال: ثم التفت إلي وقال: الصلاة (١٣).اقرع بن حابس بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر نے ایک پادری کو بلایا حضرت عمر ان سے سوال کر رہے تھے اور میں ان دونوں پر سایہ کر رہا تھا حضرت عمر نے اس سے کہا کیا آپ اپنی کتابوں میں ہمارا تذکرہ پاتے ہیں ؟ اس نے کہا ہاں تمہاری صفات اور اعمال کا تذکرہ ہے حضرت عمر نے پوچھا وہ کیا ؟ اس نے کہا میں آپ کو لوہے کا سینگ پاتا ہوں حضرت عمر اس بات سے ذرا پریشان ہوئے پھر پوچھا قرن حدید کیا ہے ؟ تو پادری نے جواب دیا سخت امانتدار۔ اس بات سے عمر خوش ہوئے۔ پھر کہنے لگے میرے بعد کیا پاتے ہو تو اس نے جواب دیا سچا خلیفہ جو اپنے اقرباء کو ترجیح د ے گا۔ حضرت عمر نے فرمایا اللہ ابن عفان پر رحم کرے۔ پھر حضرت عمر نے پوچھا اس کے بعد آپ کیا پاتے ہیں ؟ اس نے کہا لوہے میں شگاف۔ حضرت عمر کے ہاتھ میں کوئی شے تھی جس کے ذریعے الٹ پلٹ کر رہے تھے حضرت عمر نے اسے پھینکا اور دو یا تین دفعہ یہ فرمایا ” یا دفرا “ (اے رسوا ہونے والے) پادری نے کہا آپ اس طرح نہ کہیے اے امیرالمؤمنین ! کیونکہ وہ مسلمان خلیفہ ہوگا اور نیک آدمی ہوگا لیکن وہ ایسی حالت میں خلیفہ بنے گا جب تلوار ننگی ہوگی اور خون بہہ رہا ہوگا۔ پھر حضرت عمر میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا نماز کے لیے چلو۔