حدیث نمبر: 40479
٤٠٤٧٩ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا معتمر عن أبيه عن أبي نضرة عن أبي سعيد أن ناسا كانوا عند فسطاط عائشة فمر بهم عثمان، وأرى ذلك بمكة، قال أبو سعيد: فما بقي أحد منهم إلا (لعنه) (١) أو سبه (٢) غيري، وكان فيهم رجل من أهل الكوفة، فكان عثمان على (الكوفي) (٣) أجرأ منه على غيره، فقال: يا كوفي (أتسبني؟) (٤) أقدم المدينة، كأنه يتهدده، قال: فقدم المدينة فقيل له: عليك بطلحة، فانطلق معه طلحة حتى أتى عثمان، فقال (عثمان) (٥): واللَّه لأجلدنك مائة، قال: فقال طلحة: واللَّه لا تجلده مائة إلا أن يكون زانيًا، (قال) (٦): لأحرمنك (عطاءك) (٧) قال: فقال طلحة: إن اللَّه (سيرزقه) (٨) (٩).
مولانا محمد اویس سرور

ابو سعید سے منقول ہے کہ لوگ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے خیمہ کے قریب جمع تھے کہ حضرت عثمان ان کے پا س سے گزرے راوی کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے یہ مکہ کا واقعہ ہے ابو سعید کہتے ہیں میرے علاوہ وہاں موجود ہر شخص نے حضرت عثمان پر طعن وتشنیع کی۔ ان لوگوں میں ایک کوفی بھی تھا حضرت عثمان نے اس شخص پر جرأت کرتے ہوئے فرمایا اے کوفی کیا تو مجھے گالی دیتا ہے ؟ تو مدینے آنا ! گویا کہ حضرت عثمان نے دھمکی دی پس وہ شخص مدینے آیا تو اس سے کہا گیا کہ تم طلحہ کو لازم پکڑو۔ پس حضرت طلحہ اس کے ساتھ چلے یہاں تک کہ حضرت عثمان کی خدمت میں پہنچے حضرت عثمان نے فرمایا میں تم کو عطایا سے محروم کردونگا حضرت طلحہ نے فرمایا بیشک اللہ تعالیٰ رزق عطا کریگا۔

حواشی
(١) في [هـ]: (بعثه).
(٢) في [أ، ب]: زيادة (منهم).
(٣) في [أ، ب، جـ]: (الكوفة).
(٤) سقط من: [س].
(٥) سقط من: [س].
(٦) في [أ، ب، جـ، س]: (وقال).
(٧) في [جـ]: (عطاؤك).
(٨) في [ص، ع]: (سيرزقك).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40479
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه إسحاق كما في المطالب العالية (١٨٧٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40479، ترقيم محمد عوامة 38839)