٤٠٤٧٧ - حدثنا عبيد اللَّه بن موسى قال: أخبرنا شيبان عن الأعمش عن إسماعيل بن رجاء عن صخر بن الوليد عن (جُزي) (١) بن بكير العبسي قال: جاء حذيفة إلى عثمان ليودعه أو يسلم عليه، فلما أدبر قال: ردوه، فلما جاء قال: ما بلغني عنك بظهر الغيب؟ فقال: واللَّه (ما أبغضتك) (٢) منذ أحببتك، ولا غششتك ⦗٤١٩⦘ منذ نصحت (لك) (٣)، قال: أنت أصدق منهم وأبر، انطلق، فلما أدبر قال: ردوه [قال: ما بلغني عنك بظهر الغيب؟ فقال حذيفة بيده هكذا: ما بلغني عنك بظهر الغيب، أجل (واللَّه لتخرجن إخراج الثور) (٤)] (٥) ثم (لتذبحن) (٦) ذبح الجمل، (قال) (٧): [فأخذه من ذلك أَفْكَلٌ (٨)، فأرسل إلى معاوية فجيئ به يدفع، قال: هل تدري ما قال حذيفة؟ واللَّه [لتخرجن إخراج الثور ولتذبحن ذبح الجمل، فقال (ادفنها (ادفنها)) (٩) (١٠)] (١١) (١٢).جزی بن بکیر عبسی سے منقول ہے کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ حضرت عثمان کے پاس آئے تا کہ ان کو الوداع کریں یا سلام کریں۔ جب وہاں سے پیٹھ پھیر کر واپس آئے تو حضرت عثمان نے فرمایا ان کو واپس لاؤ جب حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ واپس آئے تو حضرت عثمان نے فرمایا کہ کیا بات ہے جو آپ کی طرف سے مجھے پہنچی ہے ؟ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ کی قسم جب سے میں نے بیعت کی ہے کبھی آپ سے بغض نہیں رکھا اور جب سے آپ کی خیر خواہی کی اس کے بعد نہ ہی میں نے اپنے دل میں کینہ رکھا۔ حضرت عثمان نے فرمایا آپ ا ن سے زیادہ سچے اور نیک ہیں آپ جائیں پس جب وہ منہ پھیر کر جانے لگے پھر حضرت عثمان نے فرمایا وہ کیا بات ہے جو آپ کی طرف سے مجھے پہنچی ؟ پھر فرمایا ہاں اللہ کی قسم تم ضرور بیل کی طرح نکال دیے جاؤ گے اور اونٹ کی طرح ذبح کیے جاؤ گے راوی کہتے ہیں کہ حضرت عثمان پر کپکپی طاری ہوگئی پھر انہوں نے معاویہ کو بلایا پس حضرت معاویہ کو لایا گیا تا کہ اس کا کچھ ازالہ کیا جاسکے۔ حضرت عثمان نے کہا کیا تمہیں معلوم ہے کہ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کیا کہا ؟ انہوں نے کہا کہ تم کو بیل کی طرح نکالا جائے گا اور اونٹ کی طرح ذبح کیا جائے گا حضرت معاویہ نے فرمایا کہ آپ اس بات کو دفن کردیجیے۔