حدیث نمبر: 40476
٤٠٤٧٦ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا الثوري قال: حدثنا (أسلم) (١) المنقري عن عبد اللَّه بن عبد الرحمن بن (أبزى) (٢) عن أبيه قال: لما وقع من أمر عثمان ما كان وتكلم الناس في أمره، أتيت أبي بن كعب فقلت (له) (٣): أبا المنذر ما المخرج؟ قال: كتاب اللَّه، قال: ما استبان لك (منه) (٤) فاعمل به وانتفع به، وما اشتبه عليك فآمن به وكله إلى عالمه (٥).
مولانا محمد اویس سرور

عبدالرحمن بن ابزی سے منقول ہے کہتے ہیں کہ جب حضرت عثمان کا معاملہ ہوا تو لوگوں نے چہ میگوئیاں شروع کردیں۔ میں ابی بن کعب کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا اے ابو منذر اب راہ نجات کیا ہے تو انہوں نے فرمایا کتاب اللہ، پھر فرمایا جو تم پر واضح ہوجائے اس پر عمل کرو اور اس سے فائدہ اٹھاؤ اور جو تم پر مشتبہ ہو اس پر ایمان لے آؤ اور اس کو اس کے جاننے والے کے سپرد کردو۔

حواشی
(١) في [أ، ب، هـ]: (سالم)، وفي [س]: (سلم).
(٢) في [أ، جـ، س]: (أبزا)، وفي [ب]: (بز).
(٣) سقط من: [هـ].
(٤) سقط من: [جـ].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40476
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ عبد اللَّه بن عبد الرحمن بن أبزى صدوق، أخرجه الحاكم ٣/ ٣٠٣، وابن عساكر ٧/ ٣١٤، وابن حزم في الإحكام ٦/ ٢٥٢.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40476، ترقيم محمد عوامة 38836)