٤٠٤٧٠ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن منذر بن يعلى قال: (لما كان) (١) كان يوم أرادوا قتل عثمان أرسل مروان إلى علي ألا تأتي هذا الرجل (فتمنعه) (٢) فإنهم لن يبرموا (أمرًا) (٣) دونك، فقال علي: (لنأتينهم) (٤)، (قال) (٥): فأخذ ابن الحنفية بكتفيه (فاحتضنه) (٦) فقال: يا (أبت) (٧) أين تذهب؟ (واللَّه) (٨) ما يزيدونك إلا رهبة، فأرسل إليهم علي (بعمامته) (٩) ينهاهم عنه (١٠).منذر بن یعلی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ جس دن باغیوں نے حضرت عثمان کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تو مروان نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا کہ کیا آپ اس شخص (حضرت عثمان ) کے پاس جا کر ان کی حفاظت نہیں کریں گے ؟ کیونکہ و ہ آپ کے علاوہ کسی کا فیصلہ ماننے کو تیار نہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہم ضرور جائیں گے ان کے پاس۔ پس ابن حنفیہ نے ا ن کے کندھے کو پکڑا اور اس کام کی ذمہ داری خود اٹھانے کا ارادہ کیا۔ اور عرض کیا اے میرے اباجان آپ کہاں جارہے ہیں اللہ کی قسم وہ لوگ آپ کے خوف میں ہی اضافہ کریں گے پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے باغیوں کی طرف اپنا عمامہ بھیجا اور باغیوں کو حضرت عثمان کو ضرر پہنچانے سے رکنے کا کہا۔