حدیث نمبر: 40469
٤٠٤٦٩ - حدثنا محمد بن (بشر) (١) قال: حدثنا إسماعيل بن أبي خالد قال: حدثني حصين رجل من بني الحارث قال: أخبرتني سرية زيد بن أرقم قالت: جاء علي يعود زيد بن أرقم وعنده القوم، فقال للقوم: أنصتوا (واسكتوا) (٢)، فواللَّه لا تسألوني اليوم عن شيء إلا أخبرتكم به، فقال له زيد: أنشدك اللَّه أنت (٣) قتلت عثمان؟ فأطرق ساعة (٤) قال: والذي (فلق) (٥) (الحبة) (٦) وبرأ النسمة ما قتلته ولا (أمرت) (٧) بقتله وما (ساءني) (٨) (٩).
مولانا محمد اویس سرور

زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی باندی کہتی ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے تشریف لائے جبکہ ان کے ارد گرد لوگ بیٹھے تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے کہا تم خاموش رہو۔ اللہ کی قسم تم آج جس چیز کے بارے میں سوال کرو گے میں تم کو اس کی خبر دونگا حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں ! بتاؤ تم ہی ہو جس نے عثمان کو قتل کیا ؟ پس حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کچھ دیر نظر نیچی کی پھر فرمایا اللہ کی قسم جس نے بیج کو پھاڑا اور جس نے ہوا چلائی، میں نے ان کو قتل نہیں کیا اور نہ ہی اس کا حکم دیا اور نہ ہی مجھ پر اس کی کوئی برائی عائد ہوتی ہے۔

حواشی
(١) في [س]: (بشير).
(٢) في [جـ]: (أو اسكتوا).
(٣) في [أ، ب]: زيادة (الذي).
(٤) في [هـ]: زيادة (ثم).
(٥) في [س]: (خلق).
(٦) في [س]: (الجنة).
(٧) في [أ، ب]: (ولا أمرني).
(٨) في [هـ]: (سرني).
(٩) مجهول؛ لجهالة حصين بن عبد الرحمن الحارثي وسرية زيد بن أرقم، أخرجه البخاري في التاريخ الكبير ٣/ ٨، وابن عساكر ٣٩/ ٤٥٤.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40469
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40469، ترقيم محمد عوامة 38829)