٤٠٤٦٥ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن ليث عن عبد العزيز بن رفيع قال: لما سار علي إلى صفين استخلف أبا مسعود على الناس فخطبهم في يوم جمعة فرأى فيهم قلة، فقال: أيها الناس اخرجوا فمن خرج فهو آمن، إنا واللَّه [نعلم أنّ منكم (الكاره لهذا) (١) (الأمر) (٢) و (المتثاقل) (٣) (عنه) (٤) فاخرجوا، فمن خرج فهو آمن، (إنا) (٥) ⦗٤١٣⦘ واللَّه] (٦) ما (نعدها) (٧) عافية أن يلتقي هذان (الغاران) (٨) يتقي أحدهما (صاحبه) (٩) ولكنها نعدها عافية أن يصلح اللَّه أمة محمد (١٠) ويجمع ألفتها، ألا أخبركم عن عثمان وما (نقم) (١١) الناس عليه، إنهم (لن) (١٢) يدعوه وذنبه حتى يكون اللَّه هو يعذبه أو يعفو عنه، ولم يدركوا الذي طلبوه (إذ) (١٣) حسدوه ما آتاه اللَّه (إياه) (١٤). فلما قدم علي قال له: أنت (القائل) (١٥) ما بلغني عنك يا فروج؟ إنك شيخ قد ذهب عقلك، قال: لقد (سمتني) (١٦) أمي باسم هو أحسن من هذا (أذهب) (١٧) عقلي وقد وجبت لي الجنة من اللَّه و (١٨) رسوله (١٩)، (تعلمه) (٢٠) أنت، وما بقي من عقلي فإنا كنا نتحدث: بأن الآخر فالآخر شر ثم خرج. فلما كان بالسيلحين أو بالقادسية خرج عليهم وظفراه يقطران، يرون أنه قد تهيأ للإحرام، فلما وضع رجله في الغرز وأخذ بمؤخر واسطة ⦗٤١٤⦘ (الرحل) (٢١) قام إليه ناس من الناس فقالوا له: لو عهدت إلينا يا أبا مسعود. قال: (عليكم) (٢٢) بتقوى اللَّه والجماعة، فإن اللَّه لا يجمع أمة محمد (٢٣) على ضلالة، قال: فأعادوا عليه فقال: عليكم بتقوى اللَّه والجماعة، فإنما يستريح (بر أو يستراح) (٢٤) من فاجر (٢٥).عبدالعزیز بن رفیع سے منقول ہے کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ جنگ صفین کے لیے روانہ ہوئے تو ابو مسعود کو لوگوں پر پیچھے نائب بنایا پس انہوں نے جمعہ کے دن خطبہ دیا تو انہوں نے لوگوں کی قلت محسوس کی پھر فرمایا اے لوگو ! نکلو جو نکلے گا وہ امن پائے گا۔ اللہ کی قسم ہم اس بوجھل معاملے میں تمہاری پسندیدگی کو دیکھ رہے ہیں۔ تم نکلو جو نکلے گا وہ امن پائے گا۔ اللہ کی قسم ہم عافیت اسے شمار نہیں کرتے کہ دولشکروں کی آپس میں مڈھ بھیڑ ہو ان میں سے ایک اپنے ساتھی سے بچتا پھرے بلکہ ہم عافیت اسے سمجھتے ہیں کہ اللہ امت محمدیہ کی اصلاح فرمادے اور اس کے مابین محبت و الفت قائم فرمادے۔ کیا میں تم کو حضرت عثمان کے بارے میں نہ بتلاؤں اور ان سے لوگ کیوں ناراض ہوئے میں تم کو نہ بتلاؤں ؟ لوگوں نے حضرت عثمان اور ان کی خطا کو اللہ کے سپرد نہیں کیا کہ وہ اس کو عذاب دیتا یا معاف کرتا۔ اور وہ اس کو بھی نہ پاسکے جس کی انہیں طلب تھی کیونکہ انہوں نے ان سے اس پر حسد کیا جو اللہ تعالیٰ نے ان کو عطا کیا تھا۔ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو ان سے کہا کہ آپ نے کہی ہے وہ بات جو مجھے پہنچی ہے اے چوزے تمہاری عقل جاتی رہی ہے حضرت ابو مسعود نے فرمایا کہ میری ماں نے اس نام سے بہتر نام رکھا ہے۔ کیا میری عقل جاتی رہی حالانکہ اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے لیے جنت واجب کی کیا تم جانتے ہو ؟ جو میری عقل سے باقی ہے اسی وجہ سے ہم باتیں کرتے تھے کہ ہر دوسرا شر ہے یہ کہہ کر وہ نکل گئے۔ جب ابو مسعود سیلحین یا قادسیہ میں لوگوں کے سامنے آئے تو ان کی زلفوں سے پانی ٹپک رہا تھا، لوگوں نے دیکھا کہ وہ احرام کے لیے تیاری کرچکے ہیں اور انہوں نے جب رکاب میں پاؤں رکھا اور کجاوے کو پکڑا تو لوگ ان کے آس پاس کھڑے ہو کر کہنے لگے کہ آپ ہمیں کوئی نصیحت فرمائیں۔ تو ابو مسعود نے فرمایا کہ تم تقویٰ کو لازم پکڑو اور جماعت کو لازم پکڑو بیشک اللہ تعالیٰ امت محمدیہ کو گمراہی پر جمع نہیں کرے گا۔ انہوں نے پھر نصیحت کا مطالبہ کیا تو انہوں نے پھر فرمایا تم تقویٰ کو لازم پکڑو اور جماعت کو لازم پکڑو ! بیشک نیک صالح ہی اطمینان پاتا ہے یا یہ فرمایا کہ فاجر سے اطمینان حاصل ہوتا ہے۔