حدیث نمبر: 40461
٤٠٤٦١ - حدثنا أبو معاوية عن حجاج الصواف عن حميد بن هلال عن يعلى ابن الوليد عن جندب الخير قال: أتينا حذيفة حين (سار) (١) المصريون إلى عثمان فقلنا: إن هؤلاء قد ساروا إلى هذا الرجل فما تقول؟ قال: يقتلونه -واللَّه-؛ قال: قلنا: (أين) (٢) هو؟ قال: (في) (٣) الجنة واللَّه؛ قال: قلنا: فأين قتلته؟ قال: في النار واللَّه (٤).مولانا محمد اویس سرور
جندب خیر سے منقول ہے کہتے ہیں کہ ہم حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے جب مصری حضرت عثمان کی طرف جا چکے تھے۔ ہم نے عرض کیا ! یہ لوگ اس شخص (حضرت عثمان ) کی طرف گئے ہیں آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے ؟ انہوں نے فرمایا اللہ کی قسم یہ ان کو قتل کر ڈالیں گے ہم نے پھر عرض کیا کہ آخرت میں حضرت عثمان کا کیا معاملہ ہوگا تو انہوں نے فرمایا وہ جنت میں جائیں گے اللہ کی قسم۔ پھر ہم نے کہا کہ ان کے قاتل ؟ تو انہوں نے فرمایا اللہ کی قسم وہ جہنم میں جائیں گے۔
حواشی
(١) في [س]: (صار).
(٢) في [أ، ب، جـ، س]: (فأين).
(٣) في [ب]: (هو في).
(٤) مجهول؛ لجهالة يعلي بن الوليد، أخرجه يعقوب في المعرفة ٣/ ٨٣، وابن عساكر ٣٩/ ٣٨٣، ونعيم بن حماد في الفتن (٢٧).