٤٠٤٦٠ - حدثنا غندر عن شعبة قال: سمعت سماك بن حرب قال: سمعت حنظلة بن (قنان) (١) أبا محمد (من) (٢) بني عامر بن ذهل قال: أشرف علينا عثمان من كوة وهو محصور فقال: أفيكم ابنا (مجدوح؟) (٣) فلم يكونا ثم، كانا نائمين، (فأوقظا) (٤) فجاءا، فقال لهما عثمان: أذكركما اللَّه، ألستما (تعلمان) (٥) [أن عمر قال: إنما ربيعة فاجر أو غادر، فإني واللَّه لا أجعل (فرائضهم) (٦) وفرائض قوم جاءوا ⦗٤١١⦘ من مسيرة شهر، فهاجر أحدهم عند (طُنبه) (٧)، ثم زدتهم في غداة واحدة خمسمائة خمسمائة، حتى ألحقتهم بهم؟ قالا: بلى، قال] (٨): أذكركما اللَّه ألستما تعلمان (أنكما) (٩) أتيتماني فقلتما: إن كندة أكلة رأس وإن ربيعة هم الرأس وأن الأشعث ابن قيس قد أكلهم (فنزعته) (١٠) واستعملتكما؟ قالا: بلى، قال: اللهم (اللهم) (١١)، إن (كانوا كفروا) (١٢) معروفي وبدلوا نعمتي فلا (ترضهم) (١٣) عن إمام ولا ترض الإمام عنهم (١٤).حضرت حنظلہ بن قنان ابو محمد جو بنی عامر بن ذھل سے تھے ان سے روایت ہے ارشاد فرمایا کہ حضرت عثمان نے روشندان سے ہماری طرف جھانکا جبکہ وہ محصور تھے اور فرمایا کیا تم میں محدوج کے دو بیٹے ہں ن وہ وہاں نہ تھے سوئے ہوئے تھے ان کو جگایا گیا وہ دونوں آئے اور ان دونوں سے حضرت عثمان نے کہا میں تم دونوں کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کیا تم دونوں جانتے نہیں ہو کہ حضرت عمر نے کہا تھا کہ کہ ربیعہ فاجر ہیں یا فرمایا تھا دھوکے باز ہیں اور میں ایک مہینے کی مسافت سے آنے والی قوم والا عطیہ نہیں کرسکتا ہوں ان کے ہجرت کا مقام تو ان کے خیمے کی رسی کے پاس ہے (یعنی یہ قریب سے ہجرت کرنے والے ہیں) پھر میں نے ایک صبح میں ان کے عطیہ میں پانچ پانچ سو زیادہ کیا یہاں تک کہ میں نے ان کو ان کے ساتھ ملا دیا ان دونوں نے کہا کیوں نہیں (ایسا ہوا) حضرت عثمان نے فرمایا میں تمہیں اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کیا تم یہ نہیں جانتے کہ تم میرے پاس آئے تھے اور تم دونوں نے کہا تھا کہ کندہ اور ربیعہ ان پر اشعث بن قیس غالب تھا میں نے ان کو ان سے چھڑوایا اور تم دونوں کو ان پر عامل مقرر کیا انہوں نے کہا کیوں نہیں ایسا ہی ہے۔ حضرت عثمان نے فرمایا اے اللہ ! اگر وہ میری نیکی کی ناشکری کریں اور نعمت کو بدل دیں تو اے اللہ تو ان کو کسی امام سے راضی نہ کر اور نہ امام کو ان سے راضی کر۔