٤٠٤٥٣ - حدثنا يزيد بن هارون عن ابن عون عن محمد بن سيرين قال: أشرف (عليهم) (١) عثمان من القصر فقال: ائتوني برجل أتاليه كتاب اللَّه، فأتوه بصعصعة ابن صوحان، وكان شابا فقال: ما وجدتم أحدا تأتوني (به) (٢) غير هذا الشاب؟ قال: فتكلم صعصعة (بن صوحان) (٣) بكلام، فقال له عثمان: أتلُ، فقال صعصعة: ﴿أُذِنَ لِلَّذِينَ (يُقَاتَلُونَ) (٤) بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ﴾ [الحج: ٣٩] فقال: ليست لك ولا لأصحابك، ولكنها لي ولأصحابي، ثم تلا عثمان: ﴿أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ﴾ حتى بلغ: ﴿(وَلِلَّهِ) (٥) عَاقِبَةُ الْأُمُورِ﴾ [الحج: ٤١] (٦).حضرت محمد بن سیرین سے روایت ہے کہ فرمایا حضرت عثمان نے محل سے لوگوں کی طرف جھانکا اور فرمایا میرے پاس ایسا آدمی لاؤ جس کے مقابلے میں اللہ کی کتاب پڑھوں وہ صعصعہ بن صوحان کو لے آئے وہ جوان تھا حضرت عثمان نے فرمایا تم نے اس جوان کے علاوہ کسی اور کو نہ پایا جسے میرے پاس لاتے راوی نے فرمایا کہ صعصہ بن صوحان نے ایک بات کی حضرت عثمان نے اس سے فرمایا پڑھو صعصہ بن صوحان نے { أُذِنَ لِلَّذِینَ یُقَاتَلُونَ بِأَنَّہُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّہَ عَلَی نَصْرِہِمْ لَقَدِیرٌ} آیت پڑھی ترجمہ جن لوگوں سے جنگ کی جارہی ہے انہیں اجازت دی جاتی ہے (کہ وہ اپنے دفاع میں لڑیں) کیونکہ ان پر ظلم کیا گیا ہے اور یقین رکھو کہ اللہ ان کو فتح دلا نے پر پوری طرح قادر ہے۔ حضرت عثمان نے فرمایا نہ تو یہ تیرے لیے ہے اور نہ تیرے ساتھیوں کے لیے لیکن وہ میرے لیے ہے اور میرے ساتھیوں کے لیے ہے پھر حضرت عثمان نے یہ آیت تلاوت فرمائی { أُذِنَ لِلَّذِینَ یُقَاتَلُونَ بِأَنَّہُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّہَ عَلَی نَصْرِہِمْ لَقَدِیرٌ} یہاں تک کہ { وَلِلَّہِ عَاقِبَۃُ الأُمُورِ } تک تلاوت کی۔