حدیث نمبر: 40452
٤٠٤٥٢ - حدثنا أبو أسامة عن عبد الملك بن أبي سليمان قال: سمعت أبا ليلى الكندي يقول: رأيت عثمان اطلع على الناس وهو محصور فقال: أيها الناس! لا تقتلوني واستعتبوني، فواللَّه لئن قتلتموني لا تقاتلون جميعا أبدا، ولا تجاهدون عدوا أبدًا، (و) (١) لتختلفن حتى تصيروا هكذا -وشبك بين أصابعه-: ﴿وَيَاقَوْمِ لَا يَجْرِمَنَّكُمْ شِقَاقِي أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَ قَوْمَ نُوحٍ أَوْ قَوْمَ هُودٍ أَوْ قَوْمَ صَالِحٍ وَمَا قَوْمُ ⦗٤٠٨⦘ لُوطٍ مِنْكُمْ بِبَعِيدٍ﴾ [هود: ٨٩]، قال: وأرسل إلى عبد اللَّه بن سلام فسأله (فقال) (٢): الكف الكف، فإنه أبلغ لك في الحجة فدخلوا عليه فقتلوه (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو لیلی کندی سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ حضرت عثمان کو میں نے دیکھا کہ محاصرے کے وقت انہوں نے لوگوں کی طرف جھانکا اور فرمایا اے لوگو ! مجھے قتل مت کرو اور مجھے راضی کرو اللہ کی قسم اگر تم نے مجھے قتل کردیاتو تم کبھی بھی اکھٹے قتال نہ کرسکو گے اور کبھی بھی دشمن سے جہاد نہ کرسکو گے اور تمہارے درمیان پھوٹ پڑجائے گی یہاں تک کہ تم اس طرح ہوجاؤ گے اور اپنی انگلیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ ملایا اور آیت تلاوت کی ترجمہ اور اے میری قوم ! میرے ساتھ ضد کا جو معاملہ تم کررہے ہو وہ کہیں تمہیں اس انجام تک نہ پہنچا دے کہ تم پر بھی ویسی مصیبت نازل ہو جیسی نوح کی قوم یا ہود کی قوم پر یا صالح کی قوم پر نازل ہوچکی ہے اور لوط کی قوم تو تم سے کچھ دور بھی نہیں ہے راوی نے فرمایا کہ حضر ت عثمان نے حضرت عبداللہ بن سلام کی طرف پیغام بھیجا اور ان سے پوچھا انہوں نے فرمایا ٹھہریں ٹھہریں بلاشبہ میں آپ کی دلیل تک زیادہ پہنچنے والا ہوں پس وہ لوگ حضرت عثمان کے پاس آئے اور ان کو شہید کردیا۔

حواشی
(١) سقط من: [ط، هـ].
(٢) سقط من: [س].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40452
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أبو ليلى ثقة، يغاير أبا ليلى الضعيف، أخرجه ابن سعد ٣/ ٧١، وأحمد بن منيع كما في المطالب (٤٤٧٩)، وابن أبي حاتم في التفسير (١١١٥٤)، والدلابي في الكنى ٣/ ٩٤٣، وابن عساكر ٣٩/ ٣٤٩، وابن شبه (٢٠٧٤)، والخلال في السنة (٤٤٢)، والآجري في الشريعة (١٦٩٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40452، ترقيم محمد عوامة 38813)