٤٠٤٥٠ - حدثنا عفان قال: حدثنا جرير بن حازم قال: أخبرنا يعلى بن حكيم عن نافع قال: حدثنا عبد اللَّه بن (عمر) (١) قال: قال لي عثمان وهو محصور في الدار: ما تقول فيما أشار به (عليَّ) (٢) المغيرة بن (الأخنس؟) (٣) قال: قلت: وما أشار به عليك؟ قال: إن هؤلاء القوم يريدون خلعي، فإن خلعت تركوني، وإن لم ⦗٤٠٧⦘ أخلع قتلوني، قال: قلت: أرأيت إن خُلعتَ أتراك مخلدا في الدنيا؟ قال: لا، قلت: فهل يملكون الجنة والنار؟ قال: لا، قلت: أرأيت إن لم تخلع أيزيدون على قتلك؟ قال: لا، قلت: أرأيت (تسن) (٤) هذه السنة في الإسلام كلما سخط قوم على أمير خلعوه، ولا (تخلع) (٥) قميصا (قمصكه) (٦) اللَّه (٧).حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ حضرت عثمان نے مجھ سے ارشاد فرمایا جبکہ وہ گھر کے اندر محصور تھے تم اس بارے میں کیا کہتے ہو جو مغیرہ بن الاخنس نے بتلایا ہے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا میں نے عرض کیا اس نے آپ کو کیا بتلایا ہے انہوں نے فرمایا کہ یہ لوگ مجھے خلافت سے معزول کرنا چاہتے ہیں اگر میں اس خلافت سے جدا ہوجاؤں تو وہ مجھے چھوڑیں گے اور اگر میں اس سے جدا نہ ہوں تو وہ مجھے قتل کردیں گے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں نے کہا آپ مجھے بتلائیں اگر آپ جدا ہوجائیں گے تو آپ کا کیا خیال ہے کہ آپ دنیا میں ہمشہ رہیں گے آپ نے فرمایا نہیں میں نے عرض کیا۔ کیا جنت اور جہنم کے مالک ہیں انہوں نے فرمایا نہیں میں نے عرض کیا آپ مجھے بتلائیں اگر آپ خلافت سے جدا نہ ہوں تو یہ آپ کے قتل سے زیادہ کرسکتے ہیں انہوں نے فرمایا نہیں میں نے عرض کیا آپ مجھے بتلائیں کہ آپ اسلام میں یہ طریقہ جاری کردیں گے کہ جب بھی لوگ امیر سے ناراض ہوں تو اسے (خلافت سے) جدا کردیں جو قمیص اللہ نے آپ کو پہنائی ہے وہ نہ اتاریں۔