٤٠٤٤٨ - قال: وحدثنا أبو بكر قال: حدثنا (ابن) (١) علية عن ابن عون عن الحسن قال: أنبأني وثاب وكان فيمن أدركه عتق أمير المؤمنين عمر، فكان يكون بين يدي عثمان، قال: فرأيت (في) (٢) حلقه طعنتين كأنهما كيتان طعنهما يوم الدار (دار) (٣) عثمان، قال: بعثني أمير المؤمنين عثمان فقال: ادع الأشتر، فجاء -قال ابن عون: أظنه قال: فطرحت لأمير المؤمنين وسادة، (وله وسادة) (٤) فقال: يا أشتر، ما (يريد) (٥) الناس مني؟ قال: ثلاث ليس من إحداهن بد، يخيرونك (بين) (٦) أن تخلع لهم أمرهم، فتقول: هذا أمركم، فاختاروا له من شئتم، وبين أن (تقص) (٧) من نفسك، فإن أبيت ⦗٤٠٥⦘ هاتين فإن القوم قاتلوك، قال: ما من إحداهن بد؟ قال: ما من إحداهن بد، فقال: [أما أن أخلع لهم أمرهم فما كنت لأخلع لهم سربالا سربلنيه اللَّه أبدا (٨). - قال ابن عون: وقال غير الحسن: لأن أقدم فتضرب عنقي أحب إلي من أن أخلع أمة محمد بعضها على بعض (٩)، (و) (١٠) قال ابن عون: وهذه أشبه بكلامه. - (وأما) (١١) أن (أقص) (١٢) لهم من نفسي، فواللَّه لقد علمت أن صاحبي بين يدي كانا (يقصان) (١٣) من أنفسهما وما (يقوم) (١٤) بدني بالقصاص، وإما (أن) (١٥) (يقتلوني) (١٦) فواللَّه لئن قتلوني لا (يتحابون) (١٧) بعدي أبدا، ولا يقاتلون بعدي جميعا عدوا أبدا؛ فقام الأشتر فانطلق، فمكثنا فقلنا: لعل الناس؛ ثم جاء (رويجل) (١٨) كأنه (ذئب) (١٩)، فاطلع من الباب ثم رجع، ثم جاء محمد بن أبي بكر في ثلاثة عشر رجلا حتى انتهى إلى عثمان فأخذ بلحيته فقال (بها) (٢٠) حتى سمعت وقع أضراسه وقال: ما أغنى عنك معاوية، ما أغنى عنك ابن عامر، ما أغنت عنك ⦗٤٠٦⦘ كتبك، فقال: أرسل (لي) (٢١) لحيتي يا ابن أخي، أرسل لي لحيتي يا ابن أخي، قال: فأنا رأيته استعدى رجلا من القوم بعينه فقام إليه بمشقص حتى وجأ به في رأسه فأثبته ثم مر، قال: ثم دخلوا عليه -واللَّه- حتى قتلوه (٢٢).حضرت وثاب سے روایت ہے جن کو امیر المؤمنین عمر نے آزاد کیا تھا وہ حضرت عثمان کے سامنے تھے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت عثمان کے حلق میں دو نیزے دیکھے جیسا کہ دو داغنے کی جگہ میں داغنے کے آلے ہوتے ہیں جو حضرت عثمان کو ان کے گھر میں مارے گئے وہ کہتے ہیں (راوی وثاب) کہ مجھے امیرامؤمنین حضرت عثمان نے بھیجا کہ میرے لیے اشتر کو بلا کر لاؤ پس وہ آیا اور حضرت عثمان اور اس أشتر کے لیے ایک تکیہ رکھا گیا حضرت عثمان نے پوچھا اے أشتر لوگ مجھ سے کیا چاہتے ہیں اس نے کہا کہ تین باتوں میں سے کسی کے (اختیار کیے بغیر چارہ) نہیں ایک وہ آپ کو اختیار دیتے ہیں اس بات میں کہ آپ ان کے لیے خلافت کے امر کو چھوڑ دیں اور ان سے کہہ دیں کہ یہ تمہارا امر خلافت ہے اس کے لیے جس کو چاہتے ہو چن لو اور اس کے درمیان کہ آپ اپنی ذات کو قصاص کے لیے پیش کردیں پس اگر آپ ان دونوں باتوں سے انکار کرتے ہیں تو بلاشبہ یہ لوگ آپ سے قتال کریں گے حضرت عثمان نے فرمایا کہ کیا ان میں سے کسی ایک کے اختیار کرنے کے بغیر چارہ نہیں ہے تو اس نے کہا کہ ان میں سے کسی ایک کے اختیار کرنے کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے پس حضرت عثمان نے فرمایا کہ باقی رہی یہ بات کہ میں ان کے لیے ان کے امر خلافت سے الگ ہوجاؤں تو کبھی اس قمیص کو نہیں اتاروں گا جسے اللہ رب العزت نے مجھے ہمیشہ کے لیے پہنایا ہے ابن عون راوی کہتے ہیں کہ حسن کے علاوہ دوسرے راویوں نے یوں نقل کیا ہے کہ یوں فرمایا کہ میں آگے بڑھوں اور میری گردن ماردی جائے یہ مجھے زیادہ پسندیدہ ہے اس بات سے کہ میں امت محمدیہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایک دوسرے سے لڑائی کرتا ہوا چھوڑ دوں۔ ابن عون کہتے ہیں کہ یہ ان کے کلام کے زیادہ قریب ہے۔ اور باقی رہی یہ بات کہ میں اپنی ذات کو ان کے سامنے قصاص کے لیے پیش کروں تو یقینا میں جانتا ہوں کہ مر سے دو ساتھی میرے سامنے اپنے آپ کو قصاص کے لیے پیش کرتے تھے اور میرا بدن قصاص کے قابل نہیں اور اگر وہ مجھے قتل کردیں تو اللہ کی قسم اگر انہوں نے مجھے قتل کردیا تو میرے بعد کبھی بھی وہ آپس میں محبت نہیں کریں گے اور میرے بعد وہ اکٹھے کبھی بھی کسی دشمن سے قتال نہیں کرسکیں گے پس أشتر کھڑا ہوا اور چلا گیا ہم تھوڑی دیر ٹھہرے ہم نے کہا شاید کہ لوگ ہیں پھر رو یحل آیا گویا کہ وہ بھیڑیا ہے اس نے درازے سے جھانکا پھر لوٹ گیا پھر محمد بن ابی بکر آئے تیرہ آدمیوں میں یہاں تک کہ حضرت عثمان تک پہنچے اور ان کی داڑھی کو پکڑا اور اسے کھینچا یہاں تک کہ میں نے ان کی داڑھیں گرنے کی آواز سنی اور کہا نہیں فائدہ پہنچایا تمہیں معاویہ نے اور نہیں فائدہ پہنچایا تمہیں ابن عامر نے اور نہ فائدہ دیا تمہیں تمہارے لشکر نے انہوں نے فرمایا کہ میری داڑھی چھوڑ دے اے بھتیجے میری داڑھی چھوڑ دے اے بھتیجے راوی نے فرمایا کہ محمد بن ابوبکر کی طرف انہوں نے دیکھا کہ اپنے مدد کرنے والے لوگوں میں سے ایک آدمی سے مدد طلب کر رہے تھے وہ آدمی ان کی طرف نیزہ کا پھل لے کر کھڑا ہوا یہاں تک کہ اسے ان کے سر میں مار دیا پس اسے ٹھہرا دیا فرمایا پھر کیا ہوا فرمایا پھر وہ داخل ہوئے اور اللہ کی قسم انہوں نے ان کو شہید کردیا۔