٤٠٤١٦ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (أخبرنا) (١) ابن عون عن عمير بن إسحاق قال: سمعت أبا هريرة يقول: ويل للعرب من شر قد اقترب، (أظلت) (٢) (واللَّه) (٣)، لهي أسرع إليهم من الفرس المضمر السريع: الفتنة الصماء المشبهة؛ يصبح الرجل فيها على أمر ويمسي على أمر، القاعد فيها خير من القائم، والقائم فيها خير من الماشي، والماشي فيها خير من الساعي، ولو أحدثكم (بكل الذي) (٤) أعلم لقطعتم عنقي من هاهنا - (وحز) (٥) (قفاه) (٦) بحرف كفه- اللهم لا تُدرِكنّ أبا هريرة إمرة الصبيان، ورفع يديه حتى جعل ظهورهما مما يلي بطن كفه (٧).حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے ارشاد فرمایا کہ ہلاکت ہے اہل عرب کے لیے ایسی برائی سے جو قریب آگئی وہ قریب ہوگی بخدا وہ برائی ان کی طرف چھریرے بدن والے تیز رفتار گھوڑے سے زیاد ہ تیز پہنچے گی اندھا نامعلوم فتنہ ہوگا آدمی اس میں صبح کسی امرپر کرے گا اور شام دوسرے امر پر کرے گا اس میں بیٹھنے والا کھڑے ہونے والے سے بہتر ہوگا اور اس میں کھڑا ہونے والا چلنے والے سے بہتر ہوگا اور چلنے والا اس میں دوڑنے والے سے بہتر ہوگا اور اگر میں تمام وہ باتیں جو میں جانتا ہوں تم سے بیان کروں تو تم میری گردن یہاں سے کاٹ دو اور اپنی گردن کو اپنی ہتھیلی کے کنارے سے حرکت دی (پھر فرمایا) اے اللہ ابوہریرہ بچوں کی امارت کا زمانہ نہ پائے اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے یہاں تک کہ ان کی پشت کو اپنی ہتھیلی کے اندرونی حصے کی طرف کرلیا۔