٤٠٤٠٥ - حدثنا زيد بن الحباب قال: (أخبرنا) (١) موسى بن عبيدة قال: أخبرني زيد بن عبد الرحمن بن أبي سلامة أبو (سلامة) (٢) عن أبي (الزيات) (٣) وصاحب له أنهما سمعا أبا ذر يدعو، قال: فقلنا له: رأيناك صليت في هذا البلد صلاة لم (نر) (٤) أطول مقاما وركوعا وسجودا، فلما أن فرغت رفعت يديك (فدعوت) (٥) (فتعوذت) (٦) من يوم (البلاء) (٧) ويوم العورة، [قال: فما أنكرتم؟ فأخبرناه، قال: أما يوم (البلاء) (٨) فتلتقي فئتان من المسلمين (فيقتل) (٩) بعضهم بعضا ويوم العورة] (١٠) إن النساء من المسلمات يسبين فيكشف عن سوقهن، فأيتهن أعظم ساقا اشتريت على عظم ساقها، فدعوت (أن لا) (١١) يدركني هذا الزمان، ولعلكما تدركانه، قال: فقتل عثمان وأرسل معاويةُ ابنَ أبي (أرطأة) (١٢) إلى اليمن فسبى نساء من المسلمات فأقمن في السوق (١٣).حضرت ابو الرباب اور ان کے ایک ساتھی سے روایت ہے کہ انہوں نے حصرت ابو ذر کو دعا مانگتے ہوئے سنا فرمایا کہ ہم نے عرض کیا ہم نے آپ کو دیکھا آپ نے اس شہر میں نماز پڑھی ہم نے اس سے زیادہ قیام رکوع اور سجدے کے اعتبار سے لمبی نماز نہیں دیکھی جب آپ فارغ ہوئے تو آپ نے اپنے ہاتھ اٹھائے اور دعا مانگی اور یوم البلاء اور یوم العورۃ کے دن سے پناہ مانگی اس کی کیا وجہ ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ ہاں جو چیز تمہارے لیے اجنبی ہے ہم تمہیں اس کی خبر دیتے ہیں۔ یوم البلائ (مصیبت کا دن) تو اس میں مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑیں گے اور ایک دوسرے کو قتل کریں گے اور یوم العورۃ (ستر کھولنے کا دن) سے مراد یہ ہے کہ بلاشبہ مسلمان عورتیں قید کی جائیں گی اور ان کی پنڈلیوں کو کھولا جائے گا ان میں سے جو کوئی موٹی پنڈلی والی ہوگی اسے موٹی پنڈلی کی وجہ سے خرید لیا جائے گا میں نے اللہ سے دعا کی کہ مجھے یہ زمانہ نہ پائے اور تم دونوں اس زمانے کو پاؤ گے راوی فرماتے ہیں حضرت عثمان کو شہید کردیا گیا اور حضرت معاویہ نے سیرین ابی ارطاۃ کو یمن بھیجا انہوں نے مسلمان عورتوں کو قید کیا پس ان عورتوں کو بازار میں (بیچنے کے لیے) کھڑا کیا گیا۔