حدیث نمبر: 40404
٤٠٤٠٤ - حدثنا يزيد بن هارون (عن التيمي) (١) عن نعيم بن أبي هند أن أبا مسعود خرج من الكوفة ورأسه يقطر وهو يريد أن يحرم فقالوا له: أوصنا، فقال: أيها الناس! اتهموا الرأي فقد رأيتني أهمُّ أن أضرب (بسيفي) (٢) في معصية اللَّه ومعصية رسوله (٣)، قالوا: أوصنا، قال: عليكم بالجماعة، فإن اللَّه لم يكن ليجمع أمة محمد (٤) على ضلالة، قال: (فقالوا) (٥): أوصنا، فقال: (عليكم) (٦) بتقوى اللَّه والصبر حتى يستريح بر، أو يستراح من فاجر (٧).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت نعیم بن ابی ہند سے روایت ہے کہ حضرت ابو مسعود انصاری کوفہ سے نکلے کہ (غسل کی وجہ سے) ان کے سر سے پانی کے قطرے بہہ رہے تھے اور وہ احرام باندھنے کا ارادہ رکھتے تھے لوگوں نے ان سے عرض کیا ہمیں وصیت کریں انہوں نے ارشاد فرمایا اے لوگو ! اپنی رائے کو متہم سمجھو میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں نے اپنی تلوار سے اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نافرمانی میں مارنے کا عزم کیا تھا لوگوں نے عرض کیا ہمیں (اور) وصیت کریں انہوں نے فرمایا تم پر لازم ہے اللہ سے ڈرنا اور صبر یہاں تک کہ نیک آدمی راحت پالے یا فاجر سے راحت پالی جائے۔

حواشی
(١) سقط من: [جـ].
(٢) في [س، ب]: (سيفي).
(٣) في [جـ]: زيادة ﷺ.
(٤) في [جـ]: زيادة ﷺ.
(٥) في [هـ]: (قالوا).
(٦) سقط من: [هـ].
(٧) منقطع؛ نعيم لا يروي عن أبي مسعود، أخرجه الطبراني ١٧/ (٦٦٧)، وإسحاق كما في المطالب (٤٣٤٠)، ويعقوب في المعرفة ٣/ ٢٧٧، والخطيب في الموضح ١/ ٣٩٢، والبيهقي في الشعب (٧٥١٧)، والهروي في ذم الكلام (٧٤٣).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40404
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40404، ترقيم محمد عوامة 38770)