حدیث نمبر: 40403
٤٠٤٠٣ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن هشام عن محمد بن سيرين عن عقبة بن عمرو قال: (كنت) (١) رجلا عزيز النفس حمي الأنف، لا يستقل أحد مني شيئًا سلطانٌ ولا غيره، قال: فاصبحت أمرائي (يخيرونني) (٢) بين أن أصبر لهم ⦗٣٨٤⦘ على قبح وجهي (ورغم) (٣) أنفي [وبين أن آخذ سيفي فأضرب به فأدخل النار فاخترت أن أصبر على قبح وجهي (ورغم) (٤) أنفي] (٥)، ولا آخذ سيفي فأضرب فأدخل النار (٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عقبہ بن عمرو سے روایت ہے انہوں نے فرمایا میں خوددار غیرت والا آدمی تھا کوئی میرے سامنے ٹھہر تا نہ تھا نہ بادشاہ اور نہ کوئی اور ارشاد فرمایا کہ میرے امیروں نے مجھے اختیار دیا تھا اس بات میں کہ میں ان پر صبر کروں اپنی ناپسندیدگی اور ذلت کے باوجود اور اس بات میں کہ میں اپنی تلوار لوں اور اس سے ناحق مار کر جہنم میں داخل ہوجاؤں میں نے اس بات کو لیا کہ اپنی ناپسندیدگی اور ذلت پر صبر کروں اور تلوار نہ لوں کہ اس سے (ناحق کسی کو مار کر) جہنم میں داخل ہوجاؤں۔

حواشی
(١) في [أ، ب]: (للد).
(٢) في [س، ع]: (يخيروني).
(٣) في [س]: (زعم).
(٤) في [س]: (زعم).
(٥) سقط ما بين المعكوفين من: [جـ].
(٦) منقطع؛ ابن سيرين لم يدرك عقبة بن عمرو أبا مسعود، أخرجه (٢٠٦٩٤)، وابن عساكر ٤٠/ ٥٢٣، ونعيم (٣٨٦).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40403
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40403، ترقيم محمد عوامة 38769)