٤٠٣٩٢ - حدثنا وكيع عن أبي جعفر عن الربيع عن (١) أبي العالية عن أبيّ: ﴿قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِكُمْ أَوْ مِنْ تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَيُذِيقَ بَعْضَكُمْ بَأْسَ بَعْضٍ﴾ [الأنعام: ٦٥]، قال: هي أربع خلال، وكلهن واقع لا محالة، فمضت (اثنتان) (٢) بعد وفاة النبي ﷺ بخمسة وعشرين عامًا، وألبسوا شيعا وذاق بعضهم بأس بعض، واثنتان واقعتان لا محالة: الخسف (والرجم) (٣) (٤).حضرت ابو العالیہ حضرت ابی سے نقل کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد { قُلْ ہُوَ الْقَادِرُ عَلَی أَنْ یَبْعَثَ عَلَیْکُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِکُمْ أَوْ مِنْ تَحْتِ أَرْجُلِکُمْ أَوْ یَلْبِسَکُمْ شِیَعًا وَیُذِیقَ بَعْضَکُمْ بَأْسَ بَعْضٍ } آپ کہہ دیں اس پر بھی وہی قادر ہے کہ تم پر کوئی عذاب تمہارے اوپر سے بھیج دے یا تمہارے پاؤں تلے سے یا تم کو گروہ گروہ کر کے سب کو بھڑادے تمہیں ایک دوسرے کی لڑائی کا مزہ چکھا دے ارشاد فرمایا کہ وہ چار باتیں ہیں ان میں ہر ایک یقینا واقع ہوگی دو تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے پچیس (٢٥) سال بعد گزر گئیں ان کو گروہ گروہ کر کے لڑایا گیا اور انہوں نے ایک دوسرے کی لڑائی کا مزہ چکھا اور دو لا محالہ طور پر وقوع پذیر ہوں گی زمین میں دھنسانا اور پتھروں کی بارش۔