حدیث نمبر: 40374
٤٠٣٧٤ - حدثنا أبو الأحوص عن عبد العزيز بن رفيع عن شداد بن معقل الأسدي قال: سمعت ابن مسعود يقول: أول ما تفقدون من دينكم الأمانة، وآخر ما (تفقدون) (١) (منه) (٢) الصلاة، وسيصلي قوم (و) (٣) لا دين لهم، وإن هذا القرآن الذي بين أظهركم كأنه قد نزع منكم، قال: قلت: (كيف) (٤) (يا) (٥) عبد اللَّه وقد ⦗٣٧٥⦘ (أثبته) (٦) اللَّه في قلوبنا؟ قال: يسرى عليه في ليلة فترفع (المصاحف) (٧) وينزع ما في القلوب، ثم تلا: ﴿(وَلَئِنْ) (٨) شِئْنَا لَنَذْهَبَنَّ بِالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ﴾ [الإسراء: ٨٦] إلى (آخر) (٩) الآية (١٠).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت شداد بن معقل اسدی سے روایت ہے ارشاد فرمایا کہ میں نے حضرت عبداللہ بن مسعود سے سنا فرمایا کہ پہلی وہ چیز جو تم اپنے دین سے گم کرو گے امانت ہے اور آخری چیز جو تم دین سے گم کرو گے نماز ہے اور عنقریب لوگ نماز پڑھیں گے اور ان کے پاس دین نہیں ہوگا اور یہ قرآن جو تمہارے درمیان موجود ہے گویا کہ تم سے لے لیا جائے گا فرمایا کہ میں نے عرض کیا یہ کیسے ہوگا اے عبداللہ ! حالانکہ اللہ نے اس کو ہمارے قلوب میں جمایا ہے انہوں نے فرمایا کہ ایک رات میں ان مصاحف کو اٹھا لا جائے گا اور جو قرآن کا حصہ قلوب میں ہوگا اسے نکال لیا جائے گا پھر یہ آیت تلاوت کی : اور اگر ہم چاہیں تو جو ہم نے آپ کی طرف وحی کی ہے اسے لے جائیں آیت کے اخیر تک۔

حواشی
(١) في [ب]: (تفدون).
(٢) في [س]: (من).
(٣) سقط من: [أ، ب].
(٤) سقط من: [أ، ب].
(٥) في [ع]: مكررة.
(٦) في [هـ]: (أثنته).
(٧) في [جـ]: (الصاحف).
(٨) في [ع]: (ولو)، وفي [جـ]: (لأن).
(٩) سقط من: [س].
(١٠) مجهول؛ لجهالة شداد بن معقل، وأخرجه البخاري في خلق أفعال العباد ص ٨٦، والحاكم ٤/ ٥٤٩ (٨٥٣٨)، وعبد الرزاق (٥٩٨٠)، وسعيد بن منصور ٢/ (٩٧)، ونعيم بن حماد في الفتن (١٦٦٩)، والطبراني (٨٦٩٩)، والداني (٢٦٩)، وابن أبي الدنيا في مكارم الأخلاق (٢٧٤)، والخطيب ١٢/ ٧٩، والمزي ١٢/ ٤٠٣.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40374
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40374، ترقيم محمد عوامة 38740)