٤٠٣٤٥ - حدثنا ابن علية (عن أيوب) (١) عن أبي حيان عن أبي زرعة بن عمرو عن أبي هريرة أن رجلًا قال: يا رسول اللَّه متى الساعة؟ قال: " (ما) (٢) المسئول عنها بأعلم من السائل، ولكن (سأحدثك) (٣) عن أشراطها: إذا ولدت الأمة ربتها فذاك من أشراطها؛ (وإذا) (٤) كانت (الحفاة) (٥) (٦) العراة رؤوس الناس فذاك من أشراطها؛ وإذا تطاول رعاء الغنم في البنيان (فذاك) (٧) من أشراطها، (في) (٨) خمس لا يعلمهن إلا اللَّه ﴿إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ﴾ " [لقمان: ٣٤] (٩).حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے عرض کی اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قیامت کب آئے گی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس سے پوچھا جا رہا ہے وہ پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا لیکن میں تمہارے سامنے اس کی علامات بیان کرتا ہوں جب باندی اپنا آقا جنے گی یہ قیامت کی نشانوکں میں سے ہے اور جب ننگے پاؤں اور ننگے بدن والے لوگوں کے سردار ہوں گے یہ قیامت کی علامتوں میں ہے اور بکریاں چرانے والے عمارتوں میں تفاخر کریں گے یہ بھی قیامت کی علامتوں میں ہے قیامت کا علم ان پانچ چیزوں میں ہے جن کو سوائے اللہ کے کوئی نہیں جانتا {إنَّ اللَّہَ عِنْدَہُ عِلْمُ السَّاعَۃِ وَیُنَزِّلُ الْغَیْثَ وَیَعْلَمُ مَا فِی الأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِی نَفْسٌ مَاذَا تَکْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِی نَفْسٌ بِأَیِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّہَ عَلِیمٌ خَبِیرٌ}۔ بلاشبہ اللہ کے پاس ہے قیامت کا علم اور وہ بارش اتارتا ہے اور جانتا ہے جو کچھ رحموں میں ہے اور نہیں کوئی بھی جانتا کہ وہ کل کو کیا کمائے گا اور نہیں جانتا کوئی جی کہ وہ کہاں مرے گا بلاشبہ ا اللہ تعالیٰ جاننے والے باخبر ہیں۔