٤٠٣٣٤ - حدثنا وكيع عن سفيان عن سماك عن رجل يقال: له نُبيٌ قال: جاء (قس) (١) إلى علي فسجد له (فنهاه) (٢) وقال: اسجد للَّه، قال: فقال: سلوه متى الساعة؟ فقال: لقد سألتموني عن أمر ما يعلمه (جبريل) (٣) ولا ميكائيل، ولكن (إن) (٤) (شئتم) (٥) أنبأتكم بأشياء إذا كانت لم يكن (للساعة) (٦) كبير لبث، ⦗٣٦٢⦘ إذا كانت الألسن لينة والقلوب (نيازك) (٧)، ورغب الناس في الدنيا وظهر البناء على وجه الأرض، واختلف الأخوان فصار هواهما شتى، وبيع حكم اللَّه بيعا (٨).حضرت سماک بن حرب ایک صاحب سے نقل کرتے ہیں جن کو نبی کہا جاتا تھا انہوں نے کہا کہ قیس حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان کو سجدہ کیا انہوں نے ان کو اس سے روکا اور فرمایا اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرو راوی نے فرمایا کہ لوگوں نے ان سے کہا کہ تم پوچھو قیامت کب قائم ہوگی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا تو نے مجھ سے ایسی چیز کے بارے میں سوال کیا ہے جسے نہ حضرت جبریل جانتے ہیں اور نہ ہی میکائیل لیکن میں ت میں ی ایسی اشیاء کے بارے میں بتلاتا ہوں کہ جب وہ ہوں گی تو پھر قیامت میں زیادہ وقت نہیں ہوگا جب زبانیں نرم ہوں گی اور دل نیزوں کی طرح ہوں گے اور لوگ دنیامیں رغبت کریں گے اور عمارتیں زمین پر ظاہر ہوں گی، بھائیوں میں اختلاف ہوجائے گا اور ان کی آراء مختلف ہوں گی، اور اللہ کا حکم بیچا جائے گا۔