٤٠٣٣٠ - حدثنا وكيع عن سفيان عن فرات (القزار) (١) عن أبي الطفيل عن حذيفة بن أسيد الغفاري قال: اطلع علينا رسول اللَّه ﷺ من غرفة له، ونحن نتذاكر الساعة فقال: "لا تقوم الساعة حتى تكون عشر آيات: الدجال، والدخان، وطلوع الشمس من مغربها، ودابة الأرض، ويأجوج ومأجوج، (وثلاثة) (٢) خسوف خسف (بالمشرق) (٣)، (وخسف المغرب) (٤)، وخسف في جزيرة العرب، ونار تخرج من (قعر) (٥) عدن (أبين) (٦) تسوق الناس إلى المحشر تنزل معهم إذا نزلوا و (تقيل) (٧) معهم إذا قالوا" (٨).حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بن اسید غفاری سے روایت ہے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے کمرے سے ہماری طرف جھانکا اس حال میں کہ ہم قیامت کا تذکرہ کر رہے تھے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ دس نشانیاں وقوع پذیر ہوں دجال اور دھواں اور سورج کا مغرب سے طلوع ہونا اور زمین سے چوپایہ نکلے گا ایک دھنسانا مشرق میں ہوگا دوسرا مغرب میں ہوگا اور تیسرا دھنسانا جزیرۃ العرب میں ہوگا اور آگ نکلے گی مقام عدن میں زمین کی گہرائی سے جو لوگوں کو محشر کی طرف ہانکے گی وہ آگ ان کے ساتھ اترے گی جب وہ کسی مقام پر (پراؤ کے لیے) اتریں گے اور ان کے ساتھ دو پہر کا آرام کرے گی جب وہ دوپہر کو آرام کریں گے۔