٤٠٣١٨ - حدثنا (عبيد اللَّه) (١) بن موسى قال: (أخبرنا) (٢) شيبان عن الأعمش عن شقيق عن عبد اللَّه قال: كنا نمشي مع رسول اللَّه ﷺ فمررنا على صبيان يلعبون، فتفرقوا (حين) (٣) رأوا النبي ﷺ وجلس ابن صياد، (فكأنه) (٤) (غاظ النبي ﷺ) (٥)، فقال له: "مالك تربت يداك أتشهد أني رسول اللَّه (ﷺ؟) (٦) "، فقال: أتشهد أنت أني رسول اللَّه، فقال عمر: يا رسول اللَّه دعني (فلأقتل) (٧) هذا الخبيث، قال: "دعه فإن يكن الذي (تخوف) (٨) فلن (تستطيع) (٩) قتله" (١٠).حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے فرمایا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چل رہے تھے پس ہم بچوں کے پاس سے گزرے جو کھیل رہے تھے جب ان بچوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو منتشر ہوگئے اور ابن صیاد بیٹھا رہا گویا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس نے غصہ دلا دیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے کہا تجھے کیا ہے تیرے دونوں ہاتھ خاک آلود ہوں کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں اس نے کہا کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں حضرت عمر نے فرمایا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے چھوڑیں میں اس خبیث کو قتل کردوں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس کو چھوڑ دو اگر یہ وہی ہے جس کا تمہیں خوف ہے تو تم ہرگز اس کو قتل نہیں کرسکتے۔