حدیث نمبر: 40317
٤٠٣١٧ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن أبيه عن جده عن ابن عمر قال: لقيت ابن صياد في طريق من (طرق) (١) المدينة فانتفخ حتى ملأ ⦗٣٥٦⦘ (الأرض) (٢)، فقلت: اخسأ، فإنك لن (تعدو) (٣) قدرك، فانضم بعضه إلى بعض ومررت (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ مدینہ کے راستوں میں سے ایک راستے میں ابن صیاد سے ملا وہ پھول گیا یہاں تک کہ اس نے راستہ بھر دیا میں نے کہا دفع ہوجا بلاشبہ تو تقدیر سے نہیں بڑھ سکتا اس کے (جسم کے) حصے ایک دوسرے سے ملنے لگے اور مں ر گزر گیا۔
حواشی
(١) كذا في: [أ، ب، جـ، ع] وفي [س]: (طريق).
(٢) في [جـ، ع]: (الطريق).
(٣) في [أ، س]: (نعدو)، وفي [ب]: (يعدو)، وفي [ع]: (تجزع).