حدیث نمبر: 40314
٤٠٣١٤ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا سعيد بن أبي عروبة عن قتادة عن عبد الرحمن بن (آدم) (١) عن أبي هريرة أن نبي اللَّه ﵇ (٢) قال: "الأنبياء أخوة لعلات: أمهاتهم شتى ودينهم واحد، وأنا أولى الناس بعيسى ابن مريم؛ لأنه لم يكن بيني وبينه نبي، فإذا رأيتموه فاعرفوه، فإنه رجل مربوع الخلق إلى الحمرة والبياض، (سبط) (٣) الرأس، كان رأسه (يقطر) (٤) وإن لم يصبه بلل بين ممصرتين، (فيدق) (٥) الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية، ويقاتل الناس على الإسلام حتى ⦗٣٥٥⦘ يهلك اللَّه في زمانه الملل كلها غير الإسلام، ويهلك اللَّه في زمانه مسيح الضلالة الكذاب الدجال، وتقع (الأمنة) (٦) (في زمانه) (٧) في الأرض (حتى) (٨) (ترتع) (٩) الأسود مع الإبل، والنمور مع البقر، والذئاب مع الغنم، ويلعب الصبيان -أو الغلمان شك- (بالحيات) (١٠) لا يضر بعضهم بعضا، فيلبث في الأرض ما شاء اللَّه ثم يتوفى فيصلي عليه المسلمون" (١١).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمام انبیاء علاتی بھائی ہیں ان کی مائیں مختلف ہیں اور ان کا دین ایک ہے میں لوگوں میں عیسیٰ بن مریم کے قریب ہوں کیونکہ میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں ہیں جب تم ان کو دیکھو تو جان لو وہ درمیانے قد کے آدمی ہیں سرخی اور سفیدی کی طرف (ان کا رنگ مائل ہے) ہلکے گھنگریالے بالوں والے ہیں ان کے سر سے (پانی کے) قطرات ٹپکتے معلوم ہوتے ہیں اگر چہ ان کو تری نہ ہی لگی ہو دو ہلکے زرد رنگ سے رنگی ہوئی چادروں کے درمیان ہوں گے پس صلیب کے ٹکڑے کریں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے اور جزیہ اٹھا دیں گے اور لوگوں سے اسلام پر قتال کریں گے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان کے زمانے میں تمام ملتوں کو ہلاک کردیں گے سوائے اسلام کے اور اللہ تعالیٰ ان کے زمانے میں گمراہی کے مسیح کذاب دجال کو ہلاک کریں گے اور ان کے زمانے میں زمین کے اندر امن قائم ہوجائے گا یہاں تک کہ کالا سانپ اونٹ کے ساتھ اور چیتا گائے کے ساتھ اور بھیڑیا بکریوں کے ساتھ چرے گا اور بچے سانپوں کے ساتھ کھیلیں گے کوئی ایک دوسرے کو نقصان نہیں پہنچائے گا جتنا وقت اللہ تعالیٰ چاہیں گے اتنا وہ زمین میں ٹھہریں گے پھر ان کی وفات ہوگی اور مسلمان ان کی نماز جنازہ پڑھیں گے۔

حواشی
(١) سقط من: [س].
(٢) في [أ، ب، جـ]: ﷺ.
(٣) في [س]: (سبيط).
(٤) في [أ، ب]: (يقطو).
(٥) في [س]: (فيدف).
(٦) في [أ، ب، ط، هـ]: (الأمانة).
(٧) سقط من: [ب].
(٨) سقط من: [س].
(٩) في [أ، ب]: (يرتع).
(١٠) في [هـ]: (مع الحيات).
(١١) منقطع حكمًا؛ قتادة مدلس، أخرجه أحمد (٩٦٣٢)، وأبو داود (٤٣٢٤)، وابن حبان (٦٨٢١)، والحاكم ٢/ ٥٩٥، والطيالسي (٢٥٧٥)، وابن جرير في التفسير ٣/ ٢٩١، وعبد الرزاق (٢٠٨٤٥)، وإسحاق (٤٤)، وأصله عند مسلم (٢٣٦٥)، والبخاري (٣٤٤٢).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40314
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40314، ترقيم محمد عوامة 38681)