حدیث نمبر: 40312
٤٠٣١٢ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا العوام بن حوشب قال: حدثني جبلة بن سحيم عن (مؤثر) (١) بن (عفازة) (٢) عن عبد اللَّه بن مسعود قال: لما كان ليلة أسري برسول اللَّه ﷺ لقي إبراهيم وموسى وعيسى فتذاكروا الساعة، فبدءوا بإبراهيم فسألوه عنها، فلم يكن عنده علم منها، فسألوا موسى فلم يكن عنده منها علم، فردوا الحديث إلى عيسى فقال: عبد اللَّه (إليّ) (٣) فيما (٤) دون (وجبتها) (٥)، فأما وجبتها (فلا) (٦) يعلمها إلا اللَّه؛ فذكر من خروج الدجال فأهبط (فأقتله) (٧)، فيرجع الناس إلى بلادهم فيستقبلهم يأجوج ومأجوج وهم من كل حدب ينسلون، (لا) (٨) يمرون بماء إلا شربوه؛ ولا (شيء) (٩) إلا (أفسدوه) (١٠)، (فيجيئون) (١١) (إلى) (١٢) فأدعوا اللَّه (فيميتهم، فتجوى الأرض من ريحهم، فيجيئون إليّ فأدعوا ⦗٣٥٤⦘ اللَّه) (١٣) فيرسل السماء بالماء فتحمل أجسادهم فتقذفها في البحر، ثم تنسف الجبال وتمد الأرض مد الأديم، ثم يعهد إلى إذا كان ذلك (أن) (١٤) الساعة من (الناس) (١٥) كالحامل (المتم) (١٦)، لا يدري أهلها متى (تفجؤهم) (١٧) بولادتها (١٨).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے انہوں نے فرمایا جس رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اسراء کے لیے لے جایا گیا تو ان کی ملاقات ابراہیم اور حضرت موسیٰ اور عیسیٰ ۔ سے ہوئی انہوں نے آپس میں قیامت کا تذکرہ کیا انہوں نے ابراہیم سے ابتداء کی اور ان سے قیامت کے بارے میں پوچھا ان کے پاس بھی قیامت کے بارے میں علم نہ تھا پھر انہوں نے یہ بات عیسیٰ کی طرف لوٹا دی انہوں نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کے وقوع سے قریب کی باتیں بتلائیں ہیں اور باقی اس کا وقوع وہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی نہیں جانتا انہوں نے دجال کے نکلنے کا تذکرہ کیا پس میں اتروں گا اور اسے قتل کروں گا پھر لوگ اپنے شہروں کی طرف لوٹ جائیں گے پھر یاجوج وماجوج ان کے سامنے آجائیں گے وہ ہر بلند جگہ سے جلدی سے آئیں گے کسی پانی کے پاس نہیں گزریں گے مگر اسے پی جائیں گے اور کسی چیز کے پاس سے نہیں گزریں گے مگر اسے خراب کردیں گے وہ (دوسرے لوگ) میری طرف بھاگ کر آئیں گے میں اللہ تعالیٰ سے دعا کروں گا اللہ تعالیٰ ان کو موت دے دیں گے زمین ان کی بدبو کی وجہ سے تعفن زدہ ہوجائے گی پس (دوسرے لوگ) وہ میرے پاس آئیں گے میں اللہ تعالیٰ سے دعا کروں گا اللہ تعالیٰ ان پر آسمان سے بارش اتاریں گے وہ ان کے جسموں کو اٹھائے گی اور ان کو سمندر میں پھینک دے گی پھر پہاڑ جڑ سے اکھاڑ دیے جائیں گے اور زمین چمڑے کی طرح ہوجائے گی کہ قیامت لوگوں کے ایسے قریب ہے جیسے کہ وہ حاملہ مدت حمل پوری کرچکی ہو اس کے گھر والے نہیں جانتے کب اچانک اس کے ولادت ہوجائے حضرت عوام نے فرمایا میں نے اس کی تصدیق اللہ تعالیٰ کی کتاب میں پائی ہے { حَتَّی إِذَا فُتِحَتْ یَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَہُمْ مِنْ کُلِّ حَدَبٍ یَنْسِلُونَ وَاقْتَرَبَ الْوَعْدُ الْحَقُّ }۔

حواشی
(١) في [أ، ب]: (موسر)، وفي [س]: (مويسر).
(٢) في [أ، ب، جـ]: (عفان)، وفي [هـ]: (عفارة).
(٣) في [أ، ب]: (إلا).
(٤) في [ع]: زيادة (عهد).
(٥) في [أ]: (وحببتها).
(٦) سقط من: [ب].
(٧) في [ب]: (فأقتل).
(٨) في [س]: (إلا).
(٩) في [س]: (بشيء).
(١٠) في [ب]: (أفسده).
(١١) في [ط]: (فيجرون)، وفي [ق]: (فيخرفون)، وفي [ع]: (فينخرون)، وعند ابن ماجه: (فيجأرون).
(١٢) في [أ، ب]: (إليه).
(١٣) سقط من: [هـ].
(١٤) سقط من: [أ، ب].
(١٥) في [أ، ب]: (للناس).
(١٦) في [س]: (الميتم)، وفي [س]: (ستم).
(١٧) في [س]: (تفجرهم)، وفي [ع]: (تفجاهم).
(١٨) مجهول؛ لجهالة مؤثر بن عفازة، أخرجه ابن ماجه (٤٠٨١)، وأحمد (٣٥٥٦)، والحاكم ٤/ ٤٨٨، وأبو يعلى (٥٢٩٤)، والشاشي (٨٤٥)، وابن جرير في التفسير ١٧/ ٩١.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40312
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40312، ترقيم محمد عوامة 38680)