حدیث نمبر: 40309
٤٠٣٠٩ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا أبو مالك الأشجعي عن ⦗٣٥٢⦘ أبي حازم عن أبي هريرة قال: (يسلط) (١) الدجال (على) (٢) رجل من المسلمين فيقتله ثم يحييه ثم يقول: ألست بربكم؟ ألا ترون أني أحيي وأميت، والرجل ينادي: يا أهل الإسلام! بل (عدو اللَّه) (٣) الكافر الخبيث، إنه واللَّه لا يسلط على أحد بعدي، قالوا: وكانا نمر مع أبي هريرة على معلم الكُتّاب فيقول: يا معلم (الكتاب) (٤)! اجمع لي غلمانك، فيجمعهم فيقول: قل لهم: (فلينصتوا) (٥)، أي -بني أخي-: افهموا ما أقول لكم، (أما) (٦) (يدركن) (٧) أحد منكم عيسى بن مريم فإنه شاب (وضيء) (٨) أحمر فليقرأ عليه من أبي هريرة السلام، فلا يمر على معلم (كتاب) (٩) إلا قال: لغلمانه مثل ذلك (١٠).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ دجال کو مسلمانوں میں سے ایک آدمی پر مسلط کیا جائے گا وہ اسے قتل کردے گا پھر وہ اسے زندہ کرے گا اور کہے گا کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں کیا تم دیکھتے نہیں ہو میں زندہ کرتا ہوں اور مارتا ہوں اور وہ آدمی پکار رہا ہوگا اے اہل اسلام بلکہ یہ خبیث کافر اللہ کا دشمن ہے اور بلاشبہ اللہ کی قسم اسے میرے بعد کسی ایک پر بھی مسلط نہیں کیا جائے گا حضرت ابوہریرہ کے ساتھیوں نے کہا کہ ہم حضرت ابوہریرہ کے ساتھ کتابت سکھانے والوں کے پاس سے گزرتے تھے تو حضرت ابوہریرہ فرماتے اے کتابت سکھانے والے میرے لیے اپنے لڑکوں کو جمع کرو وہ ان کو جمع کرتا تو فرماتے ان سے کہو کہ خاموش ہوجائیں اے بھتیجو ! وہ بات سمجھو جو میں تم سے کہہ رہا ہوں اگر تم میں سے کوئی عیسیٰ ابن مریم کو پالے تو وہ جوان روشن چہرے والے سرخ رنگ والے ہیں تو وہ ابوہریرہ کی جانب سے ان کو سلام پہنچا دے حضرت ابوہریرہ کسی بھی کتابت سکھانے والے کے پاس سے نہیں گزرتے تھے مگر اس کے بچوں سے یہی ارشاد فرماتے تھے۔

حواشی
(١) في [أ، ب، جـ]: (سلط).
(٢) في [ب]: (حتى).
(٣) في [ب]: (عبدو للَّه).
(٤) سقط من: [أ، ب].
(٥) في [أ، ب]: (فلينصفوا).
(٦) سقط من: [أ، ب].
(٧) في [ع]: (أدركن).
(٨) في [أ، ب]: (قضى).
(٩) في [س]: (الكتاب).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40309
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40309، ترقيم محمد عوامة 38677)