حدیث نمبر: 40307
٤٠٣٠٧ - حدثنا علي بن مسهر عن (المجالد) (١) عن الشعبي عن فاطمة بنت قيس قالت: صلى النبي ﷺ ذات يوم الظهر ثم سعد المنبر، فاستنكر الناس ذلك، فبين قائم وجالس، ولم يكن يصعده قبل ذلك إلا يوم الجمعة، فأشار إليهم بيده أن اجلسوا، ثم قال: "واللَّه ما قمت مقامي هذا (الأمر) (٢) (ينفعكم) (٣) لرغبة ولا لرهبة، ولكن (تميما) (٤) الداري أتاني فأخبرني (خبرا) (٥) منعني القيلولة من الفرح وقرة العين، ألا أن بني (عم) (٦) لتميم الداري أخذتهم عاصف في البحر فألجأتهم الريح إلى جزيرة لا يعرفونها، فقعدوا في قوارب السفينة فصعدوا فإذا هم بشيء أسود أهدب كثير الشعر، قالوا لها: ما أنت؟ قالت: أنا الجساسة، قالوا: فأخبرينا، ⦗٣٥٠⦘ قالت: ما أنا بمخبرتكم ولا سائلتكم عنه، ولكن هذا (الدير) (٧) قد (رهقتموه) (٨) فأتوه، فإن فيه رجلًا بالأشواق إلى أن يخبركم (وتخبروه) (٩)، فأتوه فدخلوا عليه، فإذا هم (بشيء) (١٠) موثق في الحديد شديد الوثاق كثير الشعر، فقال لهم: من أين (نبأتم؟) (١١) قالوا: من الشام، (قال) (١٢): ما فعلت العرب؟ قالوا: نحن قوم من العرب، قال: ما فعل هذا الرجل الذي خرج فيكم؟ قالوا: خير، [(ناوأه) (١٣) قوم فأظهره اللَّه عليهم فأمرهم اليوم جميع، وإلههم (اليوم) (١٤) واحد ودينهم واحد، قال: ذلك خير لهم] (١٥)، قال: ما فعلت عين زُغَر؟ قالوا: يسقون منها (زروعهم) (١٦) ويشربون منها (لشفتهم) (١٧)، قال: ما فعل نخل (بين) (١٨) عمان (و) (١٩) بيسان؟ قالوا: يطعم في جناه كل عام، قال: ما فعلت بحيرة طبرية؟ قالوا: تدفق جانباها من كثرة الماء، (فزفر) (٢٠) ثلاث (زفرات) (٢١) ثم قال: إني لو ⦗٣٥١⦘ (قد) (٢٢) انفلت من وثاقي هذا لم أترك أرضا إلا وطأتها بقدمي هاتين إلا طيبة، ليس لي عليها سلطان، فقال رسول اللَّه ﷺ: إلى هذا انتهى فرحي، هذه طيبة، والذي نفس محمد بيده! ما منها طريق ضيق ولا واسع إلا عليه ملك شاهر بالسيف إلى يوم القيامة" (٢٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت فاطمہ بنت قیس سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن ظہر کی نماز پڑھائی پھر منبر پر تشریف فرما ہوئے لوگوں نے اس بات کو اوپرا جانا وہ بیٹھنے والوں اور کھڑے ہونے والوں کے درمیان تھے (یعنی کچھ بیٹھے تھے اور کچھ کھڑے تھے) اور اس سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمعہ کے دن کے علاوہ منبر پر نہ تشریف رکھتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی طرف ہاتھ سے اشارہ کیا کہ بیٹھ جاؤ پھر ارشاد فرمایا کہ اللہ کی قسم میں اس جگہ کسی ایسے امر کے لیے کھڑا نہیں ہوا جو رغبت اور خوف کی وجہ سے تمہیں نفع پہچانے والا ہو لیکن تمیم داری میرے پاس آیا اور مجھے خبر دی یہاں تک کہ اس خبر کی وجہ سے خوشی اور آنکھوں کی ٹھنڈک کی بناء پر میں دوپہر کو آرام نہیں کرسکا غو ر سے سنو تمیم داری کے چچا زادوں کو سمندر میں تیز ہوا نے آن لیا ان کو ہوا نے ایسے جزیرے میں پہنچا دیا جسے وہ پہچانتے نہیں تھے وہ قریبی کشتویں میں سوار ہوئے اور جزیرے میں پہنچ گئے اچانک انہوں نے ایک سیاہ شے دیکھی جو لمبی پلکوں والی اور کثیر بالوں والی تھی انہوں نے اس سے کہا تو کیا ہے وہ شے بولی میں جساسہ ہوں (جاسوسی کرنے والی ہوں) انہوں نے کہا ہمیں بتلاؤ اس نے کہا میں نہ تو تمہیں بتلاتی ہوں اور نہ تم سے کچھ پوچھتی ہوں لیکن یہ راہب خانہ ہے جس کے تم قریب ہوچکے ہو تم اس میں جاؤبلاشبہ اس میں ایک آدمی ہے جسے یہ شوق ہیں تمہیں بتلائے اور تم اس کو بتلاؤ پس وہ وہاں گئے اور اس آدمی کے پاس گئے پس اچانک انہوں نے دیکھا کہ ایک بوڑھا بیڑیوں میں جکڑا ہوا ہے بہت اچھلنے والا بہت زیادہ بالوں والا اس نے ان سے کہا کس زمین سے نکل کر آئے ہو انہوں نے کہا شام سے اس آدمی نے کہا عرب والوں کی کیا حالت ہے وہ بولے ہم عرب کے لوگ ہیں اس نے کہا ان صاحب کا کیا حال ہے جو تمہارے اندر نکلے ہیں انہوں نے کہا بھلائی کی حالت میں ہیں ان سے لوگوں نے مقابلہ کیا اللہ تعالیٰ نے ان کو ان پر غلبہ عطا کردیا آجکل سب جمع ہیں ان کا معبود ایک ہے اور ان کا دین ایک ہے اس نے کہا یہ ان کے لیے بہتر ہے اس نے کہا مقام نغر کے چشمے کی کیا حالت ہے انہوں نے کہا اس سے وہ اپنے کھیتوں کو سیراب کرتے ہیں اور پیاس کے وقت اس سے پیتے ہیں اس نے پوچھا عمان اور بیسان کے درمیان کھجوروں کی کیا حالت ہے انہوں نے کہا وہ ہر سال اپنا پھل کھلاتی ہیں اس نے پوچھا بحیرہ طبریہ کی کیا حالت ہے انہوں نے بتلایا کہ اس کے دونوں کنارے پانی کی کثرت کی وجہ سے جوش مارتے ہیں پھر اس نے تین مرتبہ لمبا سانس لیا پھر کہابلاشبہ اگر میں ان بیڑیوں سے چھوٹ گیا تو میں کوئی زمین نہیں چھوڑوں گا مگر اسے اپنے ان دونوں قدموں سے روندوں گا سوائے مدینہ منورہ کے کہ مجھے اس پر غلبہ حاصل نہ ہوگا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہاں تک میری خوشی مکمل ہوگئی۔ یہ طیبہ ہے قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں محمد کی جان ہے اس مدینہ کا کوئی تنگ اور کھلا راستہ نہیں مگر اس پر ایک فرشتہ قیامت تک تلوار سونتے ہوئے (کھڑا) ہے۔

حواشی
(١) في [س]: (مجاهد).
(٢) في [أ، ب]: (الأمر).
(٣) في [أ]: (تبعكم)، وسقط من: [ط].
(٤) في [أ، ب، جـ]: (تميم).
(٥) في [أ، ب، جـ، س]: (حتى).
(٦) في [أ]: (عميم).
(٧) في [أ، ب]: (الدين).
(٨) في [س، ط، هـ]: (رمقتموه).
(٩) في [أ، جـ، س]: (وتخبرونه)، وفي [ب]: (ويخبرونه).
(١٠) في [هـ]: (بشيخ).
(١١) سقط من: [أ، ب، جـ، س].
(١٢) في [أ]: (قالوا).
(١٣) في [أ، ب]: (ناراه).
(١٤) سقط من: [أ، ب، ط].
(١٥) سقط ما بين المعكوفين من: [جـ].
(١٦) في [جـ]: (زرعهم).
(١٧) في [ب، جـ، س]: (يشفهم)، وفي [هـ]: (لسقيهم).
(١٨) في [أ، ب]: (بني).
(١٩) سقط من: [س].
(٢٠) في [س]: (فزقر).
(٢١) في [س]: (زقرات).
(٢٢) سقط من: [أ، ب، ع].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40307
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف مجالد، أخرجه أحمد (٢٧١٠١)، وأبو داود (٤٣٢٧)، وأصله في مسلم (٢٩٤٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40307، ترقيم محمد عوامة 38675)