حدیث نمبر: 40304
٤٠٣٠٤ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن طلحة عن خيثمة قال: كان عبد اللَّه يقرأ القرآن في المسجد فأتى على هذه الآية ﴿كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ﴾ [الفتح: ٢٩]، فقال عبد اللَّه: أنتم الزرع وقد (دنا) (١) حصادكم، ثم ذكروا الدجال في مجلسهم ذلك، فقال بعض القوم: لوددنا أنه قد خرج حتى (نرميه) (٢) بالحجارة فقال عبد اللَّه: أنتم تقولون، والذي لا إله غيره! (٣) لو سمعتم به ببابل لأتاه أحدكم وهو يشكو إليه (الحفاء) (٤) من السرعة (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت خیثمہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود مسجد میں قرآن مجید پڑھ رہے تھے اس آیت پر پہنچے ” کزرع اخرج شطاہ “ حضرت عبداللہ نے فرمایا تم کھیتی ہو اور تمہارے کٹنے کا وقت قریب ہوچکا ہے پھر لوگوں نے دجال کا تذکرہ کیا اپنی اس مجلس میں کچھ نے کہا ہم یہ چاہتے ہیں وہ نکلے اور ہم اسے پتھروں سے ماریں حضرت عبداللہ نے فرمایا تم یہ کہتے ہو اس ذات کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں اگر تم اس کے بارے میں سنو کہ بابل میں ہے تو تم میں کوئی اس کے پاس آئے گا تو وہ اس کی طرف پاؤں گھسنے کی شکایت کرے گا تیزی سے اس تک پہنچنے کی وجہ سے۔

حواشی
(١) في [أ]: (رنا).
(٢) في [س]: (نرميته).
(٣) في [أ، ب]: زيادة (و).
(٤) في [س]: (الجفا).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40304
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه ابن جرير في التفسير ٢٦/ ١١٣، والحاكم ٢/ ٤٦١، والبيهقي ٩/ ٥، والطبراني ٩/ (٨٥١١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40304، ترقيم محمد عوامة 38672)