٤٠٢٩٨ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي قيس عن الهيثم بن الأسود قال: خرجت وافدا في زمان معاوية، فإذا معه على السرير رجل أحمر كثير (غضون) (١) (الوجه) (٢)، فقال لي معاوية: تدري من هذا؟ هذا عبد اللَّه بن عمرو، قال: فقال لي عبد اللَّه: ممن أنت؟ فقلت: من أهل العراق، قال: هل ⦗٣٤٥⦘ تعرف أرضا قبلكم (كثيرة) (٣) السباخ، يقال (لها) (٤) كوثى؟ قال: قلت: نعم، قال: (منها يخرج الدجال) (٥)، قال: ثم قال: إن للأشرار بعد الأخيار عشرين ومائة سنة، لا يدري أحد من الناس متى يدخل أولها (٦).حضرت ہیثم بن اسود سے روایت ہے انہوں نے فرمایا میں وفد کی صورت میں حضرت معاویہ کے زمانے میں نکلا پس ان کے ساتھ تخت پر ایک آدمی تھے جو سرخ رنگ والے چہرے پر بہت زیاد ہ شکن والے تھے مجھ سے حضرت معاویہ نے فرمایا جانتے ہو یہ کون ہیں یہ عبداللہ بن عمرو ہیں راوی نے فرمایا مجھ سے حضرت عبداللہ نے کہا تم کہاں سے ہو میں نے عرض کیا اہل عراق سے ہوں انہوں نے فرمایا کیا تم اپنی جانب بہت زیادہ سباخ والی زمین پہچانتے ہو جسے کو ثی کہا جاتا ہے فرمایا کہ میں نے عرض کیا جی ہاں انہوں نے فرمایا کہ وہیں سے دجال نکلے گا فرمایا کہ پھر حضرت عبداللہ نے فرمایا بلاشبہ شریر لوگوں کے لیے اچھے لوگوں کے بعد ایک سو بیس سال کا عرصہ ہوگا لوگوں میں سے کوئی نہیں جانتا کہ اس کا پہلا (سال) کب داخل ہوگا۔