٤٠٢٩٧ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا هشام بن عروة عن فاطمة بنت المنذر عن أسماء قالت: أتيت (عائشة) (١) فإذا الناس قيام وإذا هي تصلي، ⦗٣٤٤⦘ (فقلت) (٢): ما شأن الناس؟ فأشارت بيدها نحو السماء، أو قالت: سبحان اللَّه، فقلت: (آية؟) (٣) (فأشارت) (٤) برأسها: أن نعم، فأطال رسول اللَّه ﷺ فقمت حتى تجلاني الغشي، وجعلت (أصبّ) (٥) على رأسي الماء، (قالت) (٦): (فحمد) (٧) رسول اللَّه ﷺ (اللَّه) (٨) (وأثنى) (٩) عليه بما هو أهله وقال: "ما من شيء لم أكن رأيته إلا قد رأيته في مقامي (هذا) (١٠)، حتى الجنة والنار، وقد أوحي (إلي) (١١) أنكم تفتنون في القبور مثل أو قريبًا - (لا) (١٢) أدري أي ذلك قالت أسماء- من فتنة الدجال" (١٣).حضرت اسمائ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی تو لوگ قیام میں کھڑے تھے اور وہ نماز پڑھ رہی تھیں میں نے عرض کیا لوگوں کی کیا حالت ہے انہوں نے ہاتھ سے آسمان کی طرف اشارہ کیا یا انہوں نے سبحان اللہ کہا میں نے عرض کیا کیا نشانی ہے انہوں نے سر سے اشارہ کیا کہ ہاں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لمبا قیام کیا (یہ نماز کسوف کا موقع تھا) میں کھڑی رہی یہاں تک کہ مجھے غشی ہوگئی میں اپنے سر پر پانی ڈالنا شروع ہوگئی حضرت اسماء نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ کی تعریف کی اور جس کا اہل ہے وہ اس کی تعریف و ثنا کی اور ارشاد فرمایا کوئی بھی چیز جو میں نے نہیں دیکھی تھی وہ میں نے اپنے اس مقا م میں دیکھی یہاں تک کہ جنت اور جہنم بھی اور مجھ پر یہ وحی کی گئی ہے تمہیں قبروں کے اندر فتنے میں مبتلا کیا جائے گا دجال کے فتنے کی مثل یا یوں فرمایا دجال کے فتنے کے قریب راوی فرماتے ہں ے مثل یا قریب کے الفاظ میں سے میں نہیں جانتا کہ حضرت اسمائ نے کیا ارشاد فرمایا۔