حدیث نمبر: 40296
٤٠٢٩٦ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا سليمان التيمي عن أبي نضرة عن جابر بن عبد اللَّه أن رسول اللَّه ﷺ لقي ابن صياد ومعه أبو بكر وعمر، أو قال: رجلان، فقال (له) (١) رسول اللَّه ﷺ: "أتشهد أني رسول اللَّه؟ "، (فقال) (٢) ابن صياد: أتشهد أني رسول اللَّه؟ (فقال رسول اللَّه) (٣) ﷺ: "آمنت باللَّه (ورسوله) (٤) "، فقال رسول اللَّه ﷺ (٥): "ما ترى؟ " فقال ابن صياد: أرى عرشا على الماء، فقال له رسول اللَّه ﷺ: "ترى عرش إبليس على البحر؟ " قال: "ما ترى؟ " قال: أرى (صادقين) (٦) أو كاذبين، فقال رسول اللَّه ﷺ: "لبس عليه (لبس عليه) (٧) فدعوه" (٨).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابن صیاد سے ملے اور آپ کے ساتھ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر تھے یا فرمایا دو آدمی تھے اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں ابن صیاد نے جواب میں کہا کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم کیا دیکھتے ہو ابن صیاد نے کہا میں عرش کو پانی پر دیکھتا ہوں اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم ابلیس کے تخت کو سمندر پر دیکھ رہے ہو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا تم کیا دیکھتے ہو اس نے کہا دو سچے یا دو جھوٹے دیکھتا ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس پر معاملہ مشتبہ ہوگیا اس پر معاملہ مشتبہ ہوگیا پس اسے چھوڑ دو ۔

حواشی
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) في [س]: (قال).
(٣) سقط من: [أ، ب، ط، هـ].
(٤) في [س]: (ورسول اللَّه).
(٥) سقط من: [ع].
(٦) في [أ]: (صيادتان)، وفي [ب]: (صيادتين).
(٧) سقط من: [ط، هـ]، وفي [ب، ع]: (ليس عليه، ليس عليه).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40296
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (٢٩٢٥)، وأحمد ٣/ ٣٨٨ (١٥٢٠٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40296، ترقيم محمد عوامة 38664)