٤٠٢٩٥ - قال (١): حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن عبد الملك بن عمير عن شهر بن حوشب قال: وإن عبد اللَّه جالسا وأصحابه، فارتفعت أصواتهم، قال: فجاء حذيفة فقال: ما هذه الأصوات يا ابن أم عبد؟ قال: يا (أبا) (٢) عبد اللَّه! ذكروا الدجال وتخوفناه؛ فقال حذيفة: واللَّه ما أبالي أهو لقيت أم هذه العنز السوداء، -قال عبد الملك: لعنز تأكل النوى في جانب المسجد-، قال: فقال له عبد اللَّه؛ لم؟ للَّه أبوك، قال حذيفة: لأنا قوم مؤمنون وهو امرؤ كافر، وإن اللَّه (سيعطينا) (٣) عليه النصر والظفر، وأيم اللَّه! لا يخرج حتى يكون ⦗٣٤٣⦘ خروجهُ أحبَ إلى المرء المسلم من (برد) (٤) الشراب على الظماء، فقال عبد اللَّه: لم؟ (٥) (للَّه) (٦) أبوك، فقال حذيفة: من شدة البلاء وجنادع الشر (٧).حضرت شہر بن حوشب سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود اور ان کے ساتھی بیٹھے تھے ان کی آوازیں بلند ہوگئیں راوی نے فرمایا حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور فرمایا اے ابن ام عبد یہ آوازیں کیسی ہیں انہوں نے فرمایا اے ابو عبداللہ انہوں نے دجال کا تذکرہ چھیڑا اور ہم اس سے ڈر گئے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ کی قسم میں پروا نہیں کرتا کہ میں اس سے ملوں یا اس سیاہ بکری کے بچے سے عبدالملک راوی کہتے ہیں اس بکری کے بچے کے بارے میں کہا جو مسجد کی ایک جانب میں کھجور کی گٹھلیاں کھا رہا تھا راوی نے کہا حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے حضرت عبداللہ نے کہا کیوں اللہ کی جانب سے آپ کے باپ کی خوبی حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہم مومن لوگ ہیں اور وہ کافر آدمی ہیں اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کے خلاف نصرت اور کامیابی عطا کریں گے اور اللہ کی قسم وہ نہیں نکلے گا یہاں تک کہ اس کا نکلنا مسلمان آدمی کے لیے پیاس میں مشروب کی ٹھنڈک سے زیادہ محبوب ہوگا حضرت عبداللہ نے پوچھا کس وجہ سے اللہ کی جانب سے خوبی ہے آپ کے باپ کے لیے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا مصیبتوں کی شدت اور برائی کی آفات کی وجہ سے۔