حدیث نمبر: 40293
٤٠٢٩٣ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن منصور عن مجاهد قال: حدثنا جنادة ابن أبي أمية الدوسي قال: (١) دخلت أنا وصاحب (لي) (٢) على رجل من أصحاب رسول اللَّه ﷺ، قال: (فقلنا) (٣): حدثنا ما سمعت من رسول اللَّه ﷺ ولا تحدثنا عن غيره، وإن كان عندك مصدقًا، قال: نعم، قام فينا رسول اللَّه ﷺ ذات يوم فقال: "أنذركم الدجال، أنذركم الدجال، أنذركم الدجال، فإنه لم يكن نبي إلا (و) (٤) (قد) (٥) (أنذره) (٦) أمته، (وإنه) (٧) فيكم أيتها الأمة، وإنه جعد آدم ممسوح العين اليسرى، وإن معه جنة ونارا، فناره جنة وجنته نار، وإن معه نهر ماء وجبل خبز، وإنه يسلط على نفس فيقتلها ثم (يحييها) (٨)، لا يسلط على غيرها، وإنه (يمطر) (٩) السماء ولا تنبت الأرض؛ وإنه يلبث في الأرض أربعين صباحا حتى يبلغ (منها) (١٠) كل منهل، ⦗٣٤٢⦘ وإنه لا يقرب أربعة مساجد: مسجد الحرام، ومسجد الرسول (١١)، و (مسجد) (١٢) المقدس والطور، وما شبه عليكم من الأشياء فإن اللَّه ليس بأعور" -مرتين (١٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت جنادہ بن ابی امیہ دوسی سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ میں اور میرا ایک ساتھی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک کے پاس گیا فرمایا کہ ہم نے کہا ہم سے وہ بیان کریں جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے اور کسی سے کوئی بات بیان نہ کریں اگر چہ وہ تمہارے نزدیک سچا ہو انہوں نے فرمایا ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک دن ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا میں تمہیں دجال سے ڈراتا ہوں میں تمہیں دجال سے ڈراتا ہوں میں تمہیں دجال سے ڈراتا ہوں بلاشبہ کوئی بھی نبی نہیں گزرے مگر انہوں نے اپنی امت کو ڈرایا اور اے امت بلاشبہ وہ تمہارے اندر ہوگا بلاشبہ وہ گنگھریالے بالوں والا ہے گندمی رنگ والا ہے اور اس کی دائیں آنکھ مٹی ہوئی ہوگی اور اس کے ساتھ جنت اور آگ ہوگی اس کی آگ جنت ہوگی اور اس کی جنت آگ ہوگی اور بلاشبہ اس کے ساتھ پانی کی نہر اور روٹی کا پہاڑ ہوگا اور اسے ایک جان پر مسلط کیا جائے گا وہ اسے قتل کرے گا پھر اسے زندہ کرے گا کسی اور پر اسے مسلط نہیں کیا جائے گا وہ آسمان سے بارش اتارے گا اور زمین کوئی چیز نہیں اگائے گی اور وہ زمین میں چالیس صبحیں ٹھہرے گا یہاں تک کہ زمین میں ہر گھاٹ پر پہنچے گا اور وہ چار مساجد کے قریب نہیں جائے گا مسجد الحرام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مسجد اور بیت المقدس کی مسجد اور طور کی مسجد اور کوئی چیز تم پر مشتبہ نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہے یہ دو مرتبہ ارشاد فرمایا (اور وہ کانا ہے)

حواشی
(١) في [ع]: زيادة (قال).
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) في [ب]: (معلنًا).
(٤) سقط من: [أ، ب، س].
(٥) سقط من: [ع].
(٦) في [أ، ب]: (أنذر).
(٧) في [س]: (إن).
(٨) في [أ]: (ثم يحيى بها)، وفي [ب]: (ثم يحيى لها).
(٩) في [س]: (تمطر).
(١٠) في [س]: (فيها).
(١١) في [جـ]: زيادة ﷺ.
(١٢) سقط من: [س].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40293
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (٢٣٦٥٨)، والطحاوي في شرح المشكل (٥٦٩٢)، والحارث (٧٨٤/ بغية).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40293، ترقيم محمد عوامة 38661)