٤٠٢٦٧ - حدثنا ابن علية عن أيوب عن حميد بن هلال عن أبي قتادة عن (أسيد) (١) بن جابر قال: هاجت ريح حمراء بالكوفة، فجاء رجل ليس له هجيرى إلا: يا عبد اللَّه بن مسعود جاءت الساعة، قال: وكان عبد اللَّه متكئا فجلس فقال: إن الساعة لا تقوم حتى (لا) (٢) يقسم ميراث ولا يفرح بغنيمة، وقال: عدو يجمعون لأهل (الإسلام) (٣) ويجمع لهم أهل الإسلام، ونحا بيده نحو (الشام) (٤)، قلت: الروم تعني؟ قال: نعم، فيكون عند (ذلكم) (٥) القتال ردة شديد (ة) (٦)، (فيشرط) (٧) المسلمون شرطة للموت لا (ترجع) (٨) إلا غالبة، فيقتتلون حتى (يحجز) (٩) بينهم الليل، (فيفيء) (١٠) هؤلاء وهؤلاء كل غير غالب، وتفنى الشرطة ثم (يشرط) (١١) المسلمون شرطة للموت لا (ترجع) (١٢) إلا غالبة، فيقتتلون (١٣) حتى (يمسوا) (١٤) ⦗٣٣١⦘ فيفئ هؤلاء وهؤلاء كل غير (١٥) غالب؛ وتفنى الشرطة، فإذا كان اليوم الرابع نهد إليهم جند أهل الإسلام، (فيجعل) (١٦) اللَّه (المدبرة) (١٧) عليهم فيقتتلون مقتلة عظيمة، أما قال: لا يرى مثلها، أو قال: (لم) (١٨) ير مثلها حتى أن الطير (ليمر) (١٩) بجنباتهم ما يخلفهم حتى يخر ميتا، فيتعاد بنو الأب كانوا (مائة) (٢٠) فلا يجدونه بقي منهم إلا الرجل الواحد، فبأي غنيمة يفرح، أو بأي ميراث يقاسم، فبينما هم كذلك إذ سمعوا (ببأس) (٢١) هو أكبر من ذلك إذ جاءهم الصريخ أن الدجال قد خلف في ذراريهم، فرفضوا (ما) (٢٢) في أيديهم (ويقبلون) (٢٣) فيبعثون عشرة فوارس طليعة، فقال رسول اللَّه ﷺ: "إني لأعرف أسماءهم وأسماء أبائهم وألوان خيولهم، هم خير فوارس على ظهر الأرض -أو قال-: هم (من) (٢٤) خير فوارس على ظهر الأرض" (٢٥).حضرت اسیر بن جابر سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کوفہ میں سرخ ہواچلی ایک صاحب آئے ان کی عادت نہیں تھی مگر یہ کہ اے عبداللہ بن مسعود قیامت آگئی راوی فرماتے ہیں حضرت عبداللہ بن مسعود ٹیک لگائے بیٹھے تھے پس بیٹھ گئے اور فرمایا بلاشبہ قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ میراث تقسیم نہیں کی جائے گی اور نہ ہی غنیمت ملنے پر خوشی کا اظہار کیا جائے گا اور فرمایا دشمن ہوں گے جو اہل اسلام کے لیے جمع ہوجائیں گے اور اہل اسلام ان کے مقابلے کے لیے ہوں گے اور ہاتھ سے اشارہ کیا شام کی طرف (راوی کہتے ہیں) میں نے عرض کیا آپ کی مراد روم ہے انہوں نے نے فرمایا ہاں لڑائی اس وقت زور پر ہوگی مسلمان موت کی شرط قائم کرلیں گے کہ نہیں لوٹیں گے مگر غالب ہو کر وہ لڑائی کریں گے یہاں تک کہ رات ان کے درمیان حائل ہوجائے گی یہ بھی رک جائیں گے اور وہ بھی رک جائیں گے کوئی بھی غالب نہیں ہوگا اور شرط ختم ہوجائے گی پھر مسلمان موت کی شرط لگائیں گے کہ لڑائی سے لوٹیں گے مگر غالب ہو کر وہ لڑائی کریں گے یہاں تک کہ شام ہوجائے گی یہ بھی رک جائیں گے اور وہ بھی رک جائیں گے کوئی بھی غالب نہیں ہوگا اور شرط ختم ہوجائے گی پس جب چوتھا دن ہوگا اہل اسلام کا لشکر ان پر حملہ کرے گا پس اللہ تعالیٰ ان (دشمنان اسلام) پر شکست مقررکر دیں گے ان کے درمیان زبردست لڑائی ہوگی جس کی مثل کبھی نہیں دیکھی گئی ہوگی یہاں تک کہ پرندہ ان پر سے گزرے گا ان سے آگے نہیں بڑھے گا یہاں تک کہ مر کر گرجائے گا ایک باپ کی اولاد جو سو ہوگی وہ واپس لوٹیں گے ان میں سے صرف ایک آدمی بچے گا کس غنیمت پر خوشی ہوگی اور کونسی میراث تقسیم ہوگی۔ اس اثناء میں کہ وہ اسی طرح ہوں گے کہ ناگاہ اس سے بڑی لڑائی کے بارے میں سنیں گے ایک چیخنے والا ان کے پاس آئے گا اور (کہے گا) کہ دجال اپنی ذریت میں موجود ہے جو چیزیں ان کے قبضے میں ہوں گی انہیں چھوڑ کر متوجہ ہوں گے اور دس سواروں کو بطور دشمن کے حالات معلوم کرنے والوں کے پاس بھیجے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا بلاشبہ میں ان کے اور ان کے آباء کے ناموں کو اور ان کے گھوڑوں کے رنگوں کو بھی پہچانتا ہوں وہ زمین کی پشت پر بہترین شہ سواروں میں ہوں گے۔