٤٠٢٦٦ - حدثنا الفضل بن دكين قال: حدثنا (حشرج) (١) قال: حدثنا سعيد ابن جمهان عن سفينة قال: خطبنا رسول اللَّه ﷺ فقال: "إنه لم يكن نبي إلا حذر الدجال أمته، هو أعور العين اليسرى، بعينه اليمنى ظفرة غليظة، بين عينيه: كافر معه واديان أحدهما (جنة) (٢) والآخر نار، فجنته نار وناره (جنة) (٣)، ومعه ملكان من الملائكة يشبهان نبيين من الأنبياء، أحدهما عن يمينه والآخر عن شماله، فيقول لأناس: ألست بربكم؟ (ألست) (٤) أحى وأميت؟ فيقول له أحد الملكين: كذبت؛ فما يسمعه أحد من الناس إلا صاحبه، فيقول صاحبه: صدقت، فيسمعه الناس فيحسبون إنما صدق الدجال، وذلك فتنة، ثم يسير حتى يأتي المدينة فلا يؤذن له فيها، فيقول: هذه قرية ذاك الرجل، ثم يسير حتى يأتي الشام، فيقتله اللَّه عند عقبة أفيق" (٥).حضرت سفینہ سے روایت ہے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا اور فرمایا بلا شبہ کوئی بھی نبی نہیں گزرا مگر اس نے اپنی امت کو دجال سے ڈرایا وہ بائیں آنکھ سے کانا ہے اس کی دائیں آنکھ میں ایک موٹا سا ناخنہ ہوگا اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر (لکھا ہوا) ہے اس کے ساتھ دو وادیاں ہوں گی ان میں ایک جنت اور دوسری آگ اس کی جنت آگ ہے اور اس کی آگ جنت ہے اور اس کے ساتھ ملائکہ میں سے دو فرشتے ہوں گے جو انبیاء میں سے دو نبیوں کے مشابہہ ہوں گے ان میں سے ایک اس کی دائیں جانب ہوگا اور دوسرا اس کی بائیں جانب ہوگا وہ لوگوں سے کہے گا کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں کیا میں زندہ نہیں کرتا اور مارتا نہیں دو فرشتوں میں سے ایک کہے گا تو نے جھوٹ کہا پس لوگوں میں سے کوئی ایک اس کی بات نہیں سنے گا مگر اس کا ساتھی (دوسرا فرشتہ) وہ اپنے ساتھی (فرشتے سے) سے کہے گا تو نے سچ کہا لوگ اس کی بات سن لیں گے اور اور یہ گمان کریں گے کہ اس نے دجال کی تصدیق کی ہے اور یہ آزمائش ہوگی پھر وہ چلے گا یہاں تک کہ مدینہ منورہ آئے گا اسے اس میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی وہ کہے گا یہ تو اس آدمی کی بستی ہے چلے گا یہاں تک کہ شام جائے گا پس اللہ تعالیٰ اسے عقبہ افیق کے پاس ہلاک کردیں گے۔