٤٠٢٦٥ - حدثنا أسود بن عامر قال: حدثنا حماد بن سلمة عن علي بن زيد عن أبي نضرة قال: أتينا عثمان بن أبي (العاص) (١) [في يوم جمعة لنعرض مصحفا لنا بمصحفه، فجلسنا إلى رجل يحدث، ثم جاء عثمان بن أبي (العاص) (٢)] (٣) فتحولنا إليه، فقال عثمان: سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "يكون للمسلمين ثلاثة أمصار: (مصر) (٤) (بملتقى) (٥) البحرين، ومصر بالجزيرة، (ومصر) (٦) بالشام، (فيفزع) (٧) الناس ثلاث فزعات فيخرج الدجال في (أعراض) (٨) جيش (ينهزم) (٩) من قبل المشرق، (فأول مصر (يرده) (١٠) المصر الذي) (١١) بملتقى البحرين فيصير أهله ثلاث فرق: فرقة تقيم (و) (١٢) (تقول) (١٣) (نشامّه) (١٤) (وننظر) (١٥) ما هو؟ ⦗٣٢٨⦘ و (فرقة) (١٦) تلحق بالأعراب، وفرقة (تلحق) (١٧) بالمصر الذي يليهم، (١٨) [ومعه سبعون ألفا عليهم (السيجان) (١٩) فأكثر (أتباعه) (٢٠) اليهود والنساء، ثم يأتي المصر الذي يليهم فيصير أهله ثلاث فرق: فرقة (تقيم) (٢١) وتقول (نشامه) (٢٢) وننظر ما هو؟ وفرقة تلحق بالأعراب، وفرقة تلحق بالمصر الذي يليهم] (٢٣)، ثم يأتي الشام (فينحاز) (٢٤) المسلمون إلى عقبة أفيق يبعثون سرحا لهم فيصاب (سرحهم) (٢٥)، ويشتد ذلك عليهم، وتصيبهم مجاعة شديدة وجهد حتى إن أحدهم ليحرق وتر قوسه فيأكله، فبينما هم كذلك إذ نادى مناد من (السحر) (٢٦): يا أيها الناس، أتاكم الغوث -ثلاث مرات، فيقول بعضهم لبعض: إن هذا الصوت لرجل شبعان، فينزل عيسى بن مريم (٢٧) عند صلاة الفجر فيقول له أمير الناس: تقدم -يا روح اللَّه- فصلِّ بنا، فيقول: إنكم -معشر هذه الأمة- أمراء بعضكم على بعض، تقدم أنت فصل ⦗٣٢٩⦘ بنا، فيتقدم الأمير فيصلي بهم، فإذا انصرف أخذ عيسى (٢٨) حربته فيذهب نحو الدجال، فإذا رآه ذاب كما يذوب الرصاص، ويضع حربته بين (ثدييه) (٢٩) فيقتله، ثم ينهزم أصحا (به) (٣٠) " (٣١).حضرت ابو نضرہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ہم جمعے والے دن حضرت عثمان بن ابو العاص کے پاس آئے تا کہ ہم اپنے (لکھے ہوئے) صحیفے کا انکے صحیفے کے ساتھ موازنہ کریں پھر حضرت عثمان بن ابوالعاص تشریف لائے ہم ان کے گرد جمع ہوگئے حضرت عثمان نے ارشاد فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ فرماتے ہوئے سنا کہ مسلمانوں کے تین شہر ہوں گے ایک شہر تو دو سمندروں کے سنگھم پر ہوگا اور ایک شہر جزیرہ میں ہوگا ایک شہر شام میں ہوگا پس لوگ تین مرتبہ گھبرائیں گے پھر دجال جنگی لشکروں میں نکلے گا اور مشرق کی جانب شکست کھاجائے گا پہلا شہر جس میں وہ جائے گا وہ شہر ہوگا جو دو سمندروں کے سنگھم میں پر ہوگا اس کے رہنے والے تین گروہوں میں ہوجائیں گے ایک گروہ وہاں اقامت اختیار کرے گا اور کہے گا ہم اس کے قریب ہو کر دیکھتے ہیں وہ کیا ہے اور ایک گروہ دیہاتیوں کے ساتھ مل جائے گا اور ایک گروہ ساتھ والے شہر میں چلاجائے گا اس کے (یعنی دجال کے ساتھ) ستر ہزار ایسے لوگ ہوں گے جن پر سبز چادریں ہوں گی اس کے اکثر متبعین یہودی اور عورتیں ہوں گی پھر ان کے پاس والے شہر میں آئے گا اس کے رہنے والے تین گروہوں میں تقسیم ہوجائیں گے ایک گروہ تو وہیں ٹھہرے گا اور کہے گا ہم اس کے قریب ہوں گے اور دیکھیں گے وہ کیا ہے ایک گروہ دیہاتیوں کے ساتھ مل جائے گا اور تیسرا گروہ اپنے پاس والے شہر میں چلا جائے گا پھر شام جائے گا مسلمان عقبہ افیق مقام میں جمع ہوجائیں گے وہ اپنے مویشیوں کو بھیجیں گے ان کے مویشیوں کو نقصان پہنچے گا یہ بات ان پر گراں ہوجائے گی ان کو سخت بھوک اور مشقت پہنچے گی یہاں تک کہ ان میں ایک اپنی کمان کی تانت کو جلائے گا اور اسے کھالے گا لوگ اس حالت پر ہوں گے سحر کے وقت ایک پکارنے والا پکارے گا اے لوگو تمہاری مدد آگئی یہ تین مرتبہ ندا دے گا وہ ایک دوسرے سے کہیں گے بلاشبہ یہ آواز ایک سیر شدہ آدمی کی آواز ہے عیسیٰ (علیہ السلام) فجر کی نماز کے وقت اتریں گے اور ان سے لوگوں کے امیر کہیں گے اے روح اللہ ! آگے بڑھیں ہمیں نماز پڑھائیں (ان سے) عیسیٰ فرمائیں گے تم اس امت کی جماعت ایک دوسرے پر امراء ہو تم آگے بڑھو اور ہمیں نماز پڑھاؤ وہ امیر آگے بڑھیں گے اور ان کو نماز پڑھائیں گے جب نماز پڑھ کر فارغ ہوں گے عیسیٰ اپنا نیزہ پکڑیں گے اور دجال کی طرف جائیں گے وہ دجال ان کو دیکھے گا تو پگھلے گا جیسے سیسہ پگھلتا ہے اس کے سینے کے درمیان اپنا نیزہ رکھیں گے اور اسے قتل کردیں گے پھر اس کے ساتھی شکست خوردہ ہوجائیں گے۔