٤٠٢٦١ - حدثنا الحسن بن موسى قال: حدثنا شيبان عن يحيى عن الحضرمي بن لاحق عن أبي صالح عن عائشة أم المؤمنين قالت: (دخل) (١) علي النبي ﷺ وأنا أبكي، فقال: "ما يبكيك؟ " (فقلت) (٢): يا رسول اللَّه، ذكرت الدجال، قال: "فلا تبكي فإن يخرج وأنا حي أكفيكموه، (وإن أمت) (٣) فإن ربكم ليس (بأعور) (٤)، وإنه يخرج معه (يهود) (٥) أصبهان، فيسير حتى ينزل (بضاحية) (٦) ⦗٣٢٥⦘ المدينة، ولها يومئذ سبعة أبواب، على كل باب (ملكان) (٧)، فيخرج إليه شرار أهلها، فينطلق حتى يأتي (٨) لد، فينزل عيسى بن مريم (٩) فيقتله، ثم يمكث عيسى في الأرض أربعين سنة أو (قريبًا) (١٠) من أربعين سنة إماما عادلا وحكما مقسطا" (١١).ام المؤمنین حضرت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے ارشاد فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اس حال میں کہ میں رو رہی تھی انہوں نے پوچھا تمہیں کونسی چیز رلا رہی ہے میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دجال کے تذکرے کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا نہ رو اگر وہ میری زندگی میں نکلا تو میں تمہاری کفایت کرونگا اور اگر میری وفات ہوجائے تو بلاشبہ تمہارا رب کانا نہیں ہے بلاشبہ اصبہان کے یہود نکلیں گے وہ چلے گا یہاں تک کہ مدینہ کے بیرونی کنارے میں آئے گا اور اس وقت مدینہ کے سات دروازے ہوں گے ہر دروازے پر دو فرشتے ہوں گے مدینہ کے شریر لوگ اس کی طرف نکلیں گے وہ چلے گا یہاں تک کہ مقام لد پر پہنچے گا حضرت عیسیٰ بن مریم اتریں گے اور اسے قتل کریں گے پھر حضرت عیسیٰ زمین میں چالیس سال کا عرصہ ٹھہریں گے یا راوی فرماتے ہیں یوں فرمایا کہ چالیس سال کے قریب کا زمانہ امام عادل اور انصاف کرنے والے فیصل بن کر ٹھہریں گے۔