٤٠٢٥٩ - حدثنا يزيد بن هارون عن أبي مالك الأشجعي عن ربعي عن حذيفة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لأنا أعلم بما مع الدجال من (الدجال) (١)، معه نهران يجريان أحدهما رأي العين ماء أبيض، والآخر رأي العين نار (تأجج) (٢)، فأما (٣) (أدرك) (٤) (أحد) (٥) ذلك فليأت (النار) (٦) الذي يراه (٧)، فليغمض ثم ليطاطئ رأسه (٨) ليشرب فإنه ماء بارد، وإن الدجال ممسوح العين، عليها ظفرة غليظة مكتوب بين عينيه كافر، (يقرؤه) (٩) كل مؤمن: كاتب وغير كاتب" (١٠).حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسو ل اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ میں خوب جانتا ہوں اس فریب کو جو دجال کے ساتھ ہوگا اس کے ساتھ دو نہریں ہوں گی ان میں سے ایک بظاہر دیکھنے میں سفید پانی معلوم ہوگی اور دوسری بظاہر بھڑکتی ہوئی آگ معلوم ہوگی اگر کوئی اس صورتحال میں مبتلا ہو تو جسے آگ سمجھ رہا ہے اس میں چلاجائے اور آنکھیں بند کرے پھر پینے کے لیے سر جھکائے تو وہ ٹھنڈاپانی ہوگا اور بلاشبہ دجال مٹی ہوئی آنکھ والا ہے اس کی آنکھ پر موٹا ناخنہ سا ہوگا (ایک ظفرہ بیماری جس کی وجہ سے آنکھ پر ناک کی طرح کی جھلی آجاتی ہے) اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہوگا جس کو ہر مومن پڑھ لے گا لکھنے (پڑھنے) والا ہو یا نہ لکھنے (پڑھنے) والا نہ ہو۔